آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام کے صوبہ ادلب میں جاری ’آخری معرکے‘ کا دائرہ وسیع
- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور
شام کے شمال مغربی علاقے میں حکومتی افواج کے فضائی حملے میں کم از کم 33 ترک فوجیوں کے ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
شام کے عسکری اتحادی روس کے مطابق ترک فوجیوں کو صوبہ ادلب میں نشانہ بنایا گیا جہاں شامی افواج جہادی جنگجوؤں سے برسرِپیکار ہیں۔
روس کے مطابق بیہون نامی علاقے میں کی جانے والی اس کارروائی میں اس کی اپنی فضائیہ استعمال نہیں ہوئی۔
ترکی کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں شامی حکومت کے 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ان کارروائیوں میں 309 شامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ شامی افواج جنھیں روس کی حمایت حاصل ہے، ان باغیوں سے صوبہ ادلب کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں جنھیں ترکی کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شامی حکام نے اب تک ادلب میں ہونے والی اس تازہ کارروائی پر عوامی سطح پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
شام کے صوبہ ادلب میں جاری یہ تنازعہ، جو پہلے ہی انسانیت سوز تباہی ہے، اب تیزی سے خطے کی سیاست پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔
شام کا تنازعہ کا عرصہ دراز سے دوہرا پہلو رہا ہے، خانہ جنگی اور پراکسی جنگ دونوں، جس میں متعدد بیرونی کھلاڑیوں نے اپنے سٹریٹجک مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے فریقین کی حمایت کی۔
اب جب شمال مشرقی شام میں یہ تنازعہ سر پر آ گیا ہے تو یہ دو پہلو بارود کی ایک بوتل کی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس کے دھماکے سے مشرق وسطی سے ہٹ کر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادلب شام کا وہ آخری صوبہ ہے جس کا اہم علاقہ ابھی بھی باغیوں کے قبضے میں ہے۔
ادلب جنگ کیوں اہمیت رکھتی ہے؟
سنہ 2017 میں ایسا لگا کہ شام کی حمایت کرنے والے روس اور ایران جبکہ باغیوں کی حمایت کرنے والے ترکی کو سمجھ آ گئی ہے:
- علاقے میں ایک مؤثر جنگ بندی معائدہ ہو گا۔
- آخری معائدہ ہونے تک تمام فریق علاقے میں اپنی کچھ نہ کچھ موجودگی رکھیں گے۔
- باغی غیر مسلح ہو جائیں گے۔
- ترکی نے نگرانی کے لیے ایسے درجنوں مقامات بنائے جن میں اس کی اپنی ہی افواج شامل تھیں۔
- مذاکرات کے ذریعے مستقبل تلاش کیا جائے گا۔
کیا یہ واقعی آگے بڑھنے کا ایک طریقہ تھا یا تینوں ممالک کی وقت حاصل کرنے کے لیے ایک مذموم چال تھی؟
یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن نئی شامی حکومت کی روسی فضائیہ اور ایران پراکسی کی حمایت کے ساتھ ادلب میں جارحیت نے معائدے سے متعلق کسی بھی امید کو ختم کر دیا ہے۔
شامی افواج اور ان کے اتحادیوں نے باغیوں سے ایک اہم شاہراہ واپس لے کر نمایاں پیشرفت حاصل کی ہے۔
اس عمل میں ترکی کے متعدد مقامات علیحدہ ہو گئے ہیں۔
گذشتہ چند ہفتوں میں ترکی اور شام کی فوج کے درمیان تنازعہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، انقرہ نے اپنی فوج کی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور ترک صدر طیب اردوغان نے ایک الٹی میٹم جاری کیا ہے۔
انھوں نے فروری کے اختتام میں شامی حکومتی افواج کو علاقوں سے نکل جانے کا کہا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں انھوں نے اہم فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
تاہم جنگ پھر بھی جاری ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں شامی حزب اختلاف کی فوجیں، جنھیں ترکی کی حمایت حاصل ہے، نے سراقیب کے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی، جس سے ایک اور اہم شاہراہ ایم فور پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جمعرات کے روز ترک صدر طیب اردوغان نے کہا ’ادلب میں ہونے والی پیشرفت اب ترکی کے حق میں ہے۔‘
کوئی حادثاتی حملہ نہیں
اس کے بعد جمعرات کے روز ترک افواج پر تباہ کن ہوائی حملہ ہوا جس کی تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں۔ ترکی اس کا الزام شامی فضائیہ پر لگا رہا ہے جبکہ یہ واضح ہے کہ حالیہ لڑائی میں روس کے طیارے کافی زیادہ حد تک ملوث رہے ہیں۔
لیکن یہ طیارہ جس بھی ملک کا ہو، ترک اطلاعات سے یہ نظر آتا ہے کہ یہ حملہ حادثاتی نہیں تھا۔
انھوں نے کہا ہے کہ ترک فوج کی جانب سے رسد پہنچانے والے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور بعد میں جیٹ طیاروں نے ترک چوکی کو نشانہ بنایا۔
امکان ہے کہ ماسکو کے جنگی جہازوں نے شام میں سرگرم کسی نیٹو ملک کو نشانہ بنایا ہو تاکہ اس جانب توجہ مبذول کرائی جا سکے کہ شام میں کیا ہو رہا ہے۔
ترکی نے جوابی کارروائی میں شامی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ سارا منظر ترکی اور شام کے مابین بڑے پیمانے پر تصادم کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس سے بہت سے سوال پیدا ہو رہے ہیں۔
کیا انقرہ یا دمشق پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ماسکو، جو بمشکل ایک غیر جانبدار پارٹی ہے، کسی طرح سے کشیدگی میں کمی کی حوصلہ افزائی کرے گا؟
اور کیا ادلب میں کارروائی روکنے کے لیے شامی حکومت کو رضامند کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟
یہ مشکل نظر آتا ہے کیونکہ شام کے صدر بشارالاسد علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور روس اس سلسلے میں پہلے ہی ان کی حمایت کر رہا ہے۔
انسانی المیہ
فوری طور پر اور بھی بہت سے سوال ہیں؟
لیکن بنیادی نوعیت کے دوسرے سوالات بھی ہیں، وہ سوالات، جو اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ شام میں کیا ہو رہا ہے۔
وہ انسانی المیہ کیا ہے جو منظر عام پر آ رہا ہے؟ سردیوں کے دوران شام میں سینکڑوں شہریوں نے ہجرت کی ہے، جن میں سے اکثر نے دوسری یا تیسری بار ہجرت کی ہے۔
ترکی پہلے ہی تیس لاکھ ستر ہزار مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ مزید 20 لاکھ افراد ترکی کی سرحد کی جانب جا سکتے ہیں۔
اپنی تمام تر سیاسی حکمت عملی کے باوجود ترکی مہاجرین کی جانب فراخ دلی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ لیکن اب یہ معاملہ ترکی کی مقامی سیاست میں متنازعہ بنتا جا رہا ہے اور ترکی کی مایوسی پناہ گزینوں کو یورپ کی جانب روانہ کر سکتی ہے۔
ترکی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کا مسئلہ صرف ترکی کا ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کا مسئلہ ہے۔ لیکن صدر اردوغان کے اس وقت مغرب میں چند دوست موجود ہیں۔ ترکی کے نیٹو اور واشنگٹن سے تعلقات کشیدہ ہیں، جس کی وجہ اس کا روس کی جانب جھکاؤ جبکہ ترکی میں موجود کرد افواج کو پہنچنے والا نقصان ہے جو کہ امریکہ کی اتحادی ہیں۔
امریکہ کا تماشائی کا کردار
واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان رابطہ کرانے کے لیے رجب طیب ارووغان کی جو خارجہ پالیسی ہم ادلب میں دیکھ رہے ہیں وہ ناکام ہو چکی ہے۔
بہرحال وہ ابھی بھی روس سے کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ وہ ترکی کو دوبارہ واشنگٹن کے بازوؤں میں دھکیلنے سے ہچکچائیں گے۔
شاید روس کے علاوہ ایسا کوئی بیرونی کھلاڑی نظر نہیں آ رہا جو تناؤ کو کم کرنے کے لیے کوشش کر سکے۔
یہ مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی کا پیمانہ ہے۔
امریکی سیکرٹری برائے دفاع مارک ایسپر نے جمعرات کے روز اپنے ترک ہم منصب سے بات کی اور پینٹاگوں کے ایک بیان کے مطابق دونوں نے ’ادلب میں اسد حکومت کی وحشیانہ جارحیت، جسے روس اور ایران کی حمایت حاصل ہے‘ پر بات چیت کی ہے۔
لیکن ترکی کے شام میں آخری بڑے حملے پر امریکی صدر کی بظاہر خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے پر امریکہ کا کرداد ایک تماشائی کا رہا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ شامی مہاجرین کی ایک نئی انسانی لہر کچھ مشترکہ بین الاقوامی اقدام کی وجہ بن سکے۔
لیکن ادلب میں جاری ظالمانہ اختتامی کھیل اور اور کئی لوگوں کی حالت زار، موجودہ سفارتکاری کی عالمی حالت اور بہت سارے کھلاڑیوں کی ذاتی دلچسپی کا خوفناک منظر پیش کرتی ہے۔