آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام کی جنگ: اسرائیل کا ’دمشق کے قریب ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر حملہ‘
شام کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب اہداف پر میزائل داغے ہیں۔
ثناء نیوز ایجنسی کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو روک لیا مگر ان حملوں میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں شامی فوج کی تنصیبات اور ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو نشانہ بنایا گیا جس میں 12 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اسرائیل نے ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایرانی 'فوجی مداخلت' کو روکنے کے لیے حالیہ برسوں میں شام میں سینکڑوں حملے کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لبنان کی حزب اللہ تنظیم سمیت ایران اور اس کے پراکسی ملک کی خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی وفادار افواج کی حمایت کر رہے ہیں۔
ثناء نیوز نے ایک شامی فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان اور مقبوضہ گولان ہائٹس پر جمعرات کو علی الصبح میزائلوں کے دو حملے کیے۔
ثنا نیوز کے شامی فوجی ذرائع کے مطابق، پہلے حملے میں دمشق کے نواحی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے حملے میں درہ، قینیطرا اور دمشق کے دیہی علاقوں میں ان جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
ثنا نیوز کے شامی فوجی ذرائع نے مزید کہا کہ '(ہمارے) فضائی دفاع کے اہلکاروں کی چوکس ہونے نے بڑے پیمانے پر میزائلوں کو تباہ کرنے میں مدد فراہم کی اور اس جارحیت نے مالی نقصان کے علاوہ آٹھ جنگجوؤں کو زخمی کیا ہے۔'
برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ، سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ان حملوں میں دمشق کے جنوب میں واقع کیسووا کے علاقے میں سات غیر ملکی جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ صوبہ درہ کے علاقے عذرا میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ کے پانچ ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
شامی فوج نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 'شامی عرب فوج کے حملوں کے سامنے ادلب اور مغربی حلب میں پسپا ہونے والی مسلح دہشت گرد تنظیموں کو بچانے کی کوشش میں' جارحیت میں اضافہ شروع کیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں شامی فوج نے جن کی مدد ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور روسی فضائی حملوں نے کی ہے، ملک کے شمال مغرب کے درجنوں قصبوں اور دیہات پر قبضہ کرلیا ہے۔ جو صدر بشارالاسد کی مخالفت کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس جاری جنگ میں پچاس لاکھ سے زیادہ شہری جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے بے گھر ہوچکے ہیں۔
ترکی کی حکومت نے جو شامی حزب اختلاف کی پشت پناہی کرتی ہے اور اسے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کا خدشہ ہے، روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کا خاتمہ کرے۔
پیر کو ادلب کی صورتحال پر نظر رکھنے والے آٹھ ترک فوجی اہلکار شامی فوج کی جانب سے گولہ باری کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔