آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرونا وائرس: ’قرنطینہ مرکز جانے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی مر جائیں‘
وینجن وانگ چینی شہر ووہان کی رہائشی ہیں جو کہ مہلک وائرس کورونا کی وبا کا مرکز ہے۔
33 سالہ وینجن ایک خاتونِ خانہ ہیں اور ان کی فیملی 23 جنوری سے ووہان میں ہی ہیں جب شہر کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
تب سے اب تک اس وائرس سے دنیا بھر میں 20000 سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 427 ہلاکتیں بھی رپورٹ کی جا چکی ہیں۔
ووہان سے بی بی سی کو دیے ایک خصوصی انٹرویو میں وینجن وانگ اپنی فیملی کی اس مشکل میں دردناک کہانی بیان کر رہی ہیں۔
جب سے یہ وبا شروع ہوئی ہے میرے چچا ہلاک ہو چکے ہیں، میرے والد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، اور میری والدہ سمیت میری خالہ میں بھی اس بیماری کی علامتیں نظر آنے لگی ہیں۔
سی ٹی سکینز سے پتا چلتا ہے کہ ان کے پھیپھڑے انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ میرے بھائی کو بھی کھانسی آ رہی ہے اور اسے سانس لینے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔
میرے والد کو کل سے 102 ڈگری بخار ہے، وہ متواتر کھانس رہے ہیں اور مشکل سے سانس لے پا رہے ہیں۔ ہم نے ان کے گھر پر ایک آکسیجن مشین رکھی ہے اور وہ اس مشین پر 24 گھنٹے انحصار کر رہے ہیں۔
اس وقت وہ چینی اور مغربی ادویات دونوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ کسی ہسپتال نہیں جا سکتے کیونکہ ابھی تک ان کا کیس کنفرم نہیں ہوا چونکہ ٹیسٹ کرنے والی کٹس کی کمی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میری والدہ اور خالہ اپنی خراب صحت کے باوجود ہر روز ہسپتال جاتی ہیں کہ میرے والد کے لیے بستر حاصل کر سکیں مگر کوئی ہسپتال انھیں داخل کرنے کو تیار نہیں ہے۔
’ہماری کوئی مدد نہیں کر رہا‘
ووہان میں بہت سے قرنطینہ مراکز ہیں جہاں ایسے مریضوں کو رکھا جا رہا ہے جو اس بیماری کی ابتدائی علامات دیکھا رہے ہیں یا انکیوبیشن دورانیے میں ہیں۔
وہاں کچھ بہت سادہ اور بنیادی سہولتیں ہیں۔ مگر جن لوگوں کی حالت زیادہ تشویش ناک ہے ان کے لیے وہاں کوئی بستر نہیں ہیں۔
میرے چچا ایک قرنطینہ مرکز پر ہی ہلاک ہوئے تھے کیونکہ جن لوگوں کو حالت وہاں بگڑ جاتی ہے ان کے وہاں سہولیات نہیں ہیں۔ میری امید ہے کہ میرے والد کو صحیح علاج مل جائے مگر اس وقت کوئی بھی ہمارے سے نہ رابطے میں اور نہ ہی کوئی ہماری مدد کر رہا ہے۔
میں نے کئی بار کمیونٹی ورکز سے رابطہ کیا مگر ہر مرتبہ جواب یہی ملا کہ بستر حاصل کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ابتدا میں جس قرنطینہ مرکز میں میرے والد اور چچا گئے تھے، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ ہسپتال ہے مگر بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک ہوٹل ہے۔
وہاں کوئی ڈاکٹر یا نرس نہیں تھی، یہاں تک کہ ہیٹر بھی نہیں تھا۔ وہ دوپہر میں وہاں گئے اور وہاں کے سٹاف نے انھیں شام کو ٹھانڈا کھانا دیا۔ میرے چچا انتہائی بیمار تھے اور اس وقت انھیں سانس کے شدید مسائل کا سامنا تھا اور وہ اپنا ہوش بھی کھو رہے تھے۔
مگر کوئی ڈاکٹر ان کا علاج کرنے نہیں آیا۔ میرے والد اور وہ علیحدہ کمروں میں تھے۔ جب اگلی صبح ساڑھے چھ بجے میرے والد ان کو دیکھنے گئے تو وہ انتقال کر چکے تھے۔
’ہم قرنطینہ مرکز جانے کے بجائے گھر پر مر جانا پسند کریں گے‘
جو نئے ہسپتال بنائے جا رہے ہیں وہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو کہ پہلے ہی موجودہ ہسپتالوں میں ہیں اور نئے ہسپتالوں میں انھیں منتقل کیا جائے گا۔
مگر ہم جیسے لوگوں کے لیے تو ایک بستر موجود نہیں، نئے ہسپتال میں کیا جگہ ملے گی۔
اگر ہم حکومتی ہدایات پر عمل کریں تو ہمارے پاس جانے کے لیے قرنطینہ مرکز ہی ہے۔ مگر ہم ادھر گئے تو جو میرے چچا کے ساتھ ہوا وہی میرے والد کے ساتھ ہوگا۔
اس لیے بہتر ہے ہم گھر پر ہی مر جائیں۔
’انفیکشن سے متاثرہ آبادی بہت زیادہ ہے‘
ہم جیسی اور بہت سی فیملیز ہیں اور سب کو یہی مسائل درپیش ہیں۔ میرے ایک دوست کے والد کو قرنطینہ مرکز سے اس لیے لوٹا دیا گیا کیونکہ ان کو بخار زیادہ تھا۔
وسائل کم ہیں اور متاثرہ آبادی زیادہ ہے۔ ہم خوفزدہ ہیں اور ہمیں پتا نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔
وینجن وانگ کا دنیا کے لیے پیغام
میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر مجھے پتا ہوتا کہ 23 جنوری کو شہر بند کر دیا جانا ہے تو میں اپنی پوری فیملی کو لے کر یہاں سے نکل جاتی کیونکہ یہاں ہمارے لیے کوئی امداد نہیں ہے۔
اگر ہم کہیں اور ہوتے تو شاید امید ہوتی۔ مجھے نہیں پتا کہ ہم جیسے لوگ جنھوں نے حکومت کی بات سنی اور ووہان میں رہے، کیا انھوں نے درست فیصلہ کیا۔
مگر شاید میرے چچا کی موت نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔