آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ کا فلسطین اور اسرائیل کے لیے امن منصوبہ: ’صدی کی عظیم ڈیل بہت بڑا جوا ہے‘
- مصنف, جیریمی بوون
- عہدہ, بی بی سی مشرق وسطیٰ مدیر، واشنگٹن
بعض اوقات وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم کا ماحول کچھ ایسا ہوتا تھا جیسے نیوز کانفرنس کے بجائے پارٹی کی جگہ ہو۔
میزبان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مہمان خصوصی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں لیڈرز کے ساتھ موجود عملے اور ان کے ساتھ آنے والے مہمان تالیاں بجا رہے تھے۔
سب سے زیادہ خوشی کا اظہار صدر ٹرمپ کی یادہانی پر کیا گیا کہ انھوں نے اسرائیل کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔
وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس دن کو سنہ 1948 میں اسرائیل کے یومِ آزادی کے دن کی طرح یاد کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے نیا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔
اسرائیل کو جو سکیورٹی چاہیے وہ اسے ملے گی۔ فلسطینیوں کو وہ ریاست ملے گی جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔
سننے میں اب تک تو سب ٹھیک لگ رہا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ نتن یاہو کو وہ سب دیتا ہے جو وہ چاہتے ہیں جبکہ فلسطینیوں کو ایک ایسی ریاست ملے گی جو چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ غیرخودمختار ہو گی اور اس کے اردگرد اسرائیلی علاقہ اور یہودی بستیاں ہوں گی۔
وہ زمانہ جب امن ممکن تھا
صدر ٹرمپ کو شاید شک کے بغیر یقیناً یہی لگ رہا ہو گا کہ وہ 'صدی کی سب سے بڑی ڈیل' پیش کر رہے ہیں۔ یہ نتن یاہو اور ان کی حکومت کے لیے زبردست ڈیل ہے۔ ان کا فلسطینیوں کے حوالے سے جو نظریہ تھا، اب امریکہ کا بھی وہی نظریہ ہے۔
ان تمام سالوں میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ہونے والے امن مذاکرات میں امریکہ کی اول ترجیح اسرائیل کی خواہشات، حدود اور سب سے بڑھ کر اس کی حفاظت رہی ہے۔
لیکن یکے بعد دیگرے آنے والے امریکی صدور نے اس بات کا اقرار کیا کہ امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم ریاست کی ضرورت ہے بیشک وہ اسے برابر کی خودمختاری دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔
اسرائیل کے مطابق فلسطینیوں نے کئی اچھی پیشکش ٹھکرائی ہیں۔ البتہ فلسطینی ثالثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بہت چھوٹ دی اور اپنی تاریخی زمین پر اسرائیل کے تقریباً 78 فیصد وجود کو قبول کیا۔
تقریباً 30 سال پہلے ایک بار امن مذاکرات کا حل نکلتا دکھائی دیا تھا۔ ناروے میں ہونے والے خفیہ مذاکرات کے سلسلے کو اوسلو امن عمل کا نام دیا گیا اور اُسے سنہ 1993 میں وائٹ ہاؤس کے لان میں صدر بِل کلنٹن کی زیرِ نگرانی میں ہونے والی تقریب نے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
اسرائیل کے سب سے بڑے جنگی رہنما اسحاق رابن اور فلسطینیوں کے لیے آزادی کی امیدوں کی عملی شکل یاسر عرفات نے جن دستاویزات پر دستخط کیے ان کے مطابق جنگ کی بجائے مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان دو تلخ حریفوں نے آپس میں ہاتھ بھی ملائے۔
رابن، یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر خارجہ شیمون پییز کو اس معاہدے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔
اوسلو میں تاریخ رقم ہوئی۔ فلسطینیوں نے اسرائیل کو بطور ریاست قبول کیا۔ اسرائیلوں نے فلسطین لبریشن آرگنائیزیشن کو فلسطینی عوام کے نمائندگان کے طور پر قبول کیا۔
مگر اوسلو معاہدے میں جلد دراڑیں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ بنیامن نتن یاہو نے اسے اسرائیل کے لیے جان لیوا خطرہ قرار دیا۔ اسرائیلیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کو بسانے کے منصوبے کو اور تیز کر دیا۔
ایڈورڈ سعید جیسے معلم نے فلسطینیوں کی جانب سے اوسلو معاہدے کو تسلیم کرنے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مذمت کی۔
حماس اور اسلامِک رزسٹنس موومنٹ کے فلسطینی عسکریت پسندوں نے یہودیوں کو قتل کرنے اور ڈیل کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے خودکش بمبار بھیجے۔
اسرائیل میں حالات خراب ہو گئے۔ رابن کو ان کے ہی چند ساتھیوں نے نازی کہہ دیا۔ مہینیوں کے اشتعال کا نتیجہ یہ نکلا کہ نو نومبر 1995 کو ایک یہودی شدت پسند نے ان کا قتل کر دیا۔
ہتھیار ڈالنے کے کاغذات
رابی کا قاتل امن عمل کو برباد کرنا چاہتا تھا اور اس کے مطابق ایسا کرنے کے لیے اُسے اُس اسرائیلی کو ختم کرنا تھا جو امن عمل کو حقیقت بنا سکتا تھا۔ رابین کا قاتل صحیح تھا۔
اگر رابن زندہ رہتے تو ممکن ہے کہ اوسلو معاہدہ چھوٹی معاملات اور یروشلم کے مستقبل جیسے بڑے مسائل کی وجہ سے پھر بھی ناکام ہو جاتا کیونکہ دونوں اطراف کے لیڈرز لڑائی کو سمجھوتے پر ترجیح دیتے۔
اور ساتھ ساتھ اسرائیلی قبضے جیسی پرتشدد حقیقت اور فلسطینی مخالفت کی وجہ سے یہ معاہدہ شاید ناکام ہی ہو جاتا۔
ٹرمپ کی طرف سے کیا گیا اعلان نتن یاہو اور صدر ٹرمپ کی سیاسی اور قانونی ضروریات کے لیے مفید ہے۔ دونوں لیڈرز جلد انتخابات لڑیں گے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ اپنے مواخذے اور امریکی سینیٹ میں بڑے جرائم اور بدعنوانی کے سلسلے میں مقدمے سے اپنا دھیان ہٹانا چاہتے ہیں۔
نتن یاہو کو بدعنوانی، رشوت اور اعتماد کی خلاف ورزی جیسے مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ امریکہ کی طاقت کے بارے میں فخر کا اظہار کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کی عسکری اور اقتصادی طاقت انھیں اپنی مرضی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ وہ ناکام امن مزاکرات کی کوششوں کے پیچھے موجود پرانے عقائد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ کے کاغذات اقوامِ متحدہ کی قرارداد 242 یا بین الاقوامی قوانین جیسے تکلیف دہ حقائق کو بھی ہٹا دیتے ہیں جو جنگ کے ذریعے علاقے کے حصول کو تسلیم نہ کرنے پر زور ڈالتے ہیں اور یہ کہ قبضہ کرنے والے افراد مقبوضہ زمین پر اپنے لوگوں کو بسا نہیں سکتے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے فوراً ہی اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور امیدیں برائے فروخت نہیں ہیں۔
فلسطینیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اس ڈیل کو قبول کریں یا چھوڑ دیں۔ ان کو ہتھیار ڈالنے کا ایک کاغذ تھما دیا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل جیت گیا ہے اور اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ اپنا مستقبل سنوارے گا۔
اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر فلسطینی منع کریں گے تو پھر بھی ہو گا وہی جو اسرائیل چاہتا ہے اور ان کے ساتھ پہلے سے بھی بدتر سلوک کیا جائے گا۔
ہو سکتا ہے کہ فلسطینی زیادہ غصے، مایوسی اور ناامیدی کے جذبات سے دوچار ہوں۔ دنیا کے ایک حساس حصے کے لیے یہ خطرناک بات ہے۔ ٹرمپ کا منصوبہ ایک جوا ہے۔