آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب پر ’سپورٹس واشنگ‘ کا الزام کیوں؟
کھیلوں کے بڑے مقابلے اب سعودی عرب میں ہو رہے ہیں۔ فارمولہ ای سیزن کا آغاز ریاض میں ہونے والی ریس سے ہوا۔ دسمبر میں ہیوی ویٹ باکسر اینتھونی جوشوا اور اینڈی روئز کے مابین مقابلہ سعودی عرب میں ہوگا۔ فارمولہ ون (ایف ون) کا مقابلہ سعودی عرب میں کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
چند ہفتے پہلے سپین میں منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ اگلے تین برس تک سپینش سُپر کپ کے مقابلے سعودی عرب میں ہوں گے۔ سپینش کلبز میں سے جو چار ٹیمیں اس کپ میں حصہ لیں گی ان میں بارسلونا، ریئل میڈرڈ، ایٹلیٹکو میڈرڈ اور ولینشیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔
سپین کی کھیلوں کی قائم مقام وزیر ماریا ہوزے ریندا نے اس اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپین کی حکومت کسی ایسے ملک میں کھیلوں کے مقابلے کرانے کی حمایت نہیں کرے گی جہاں عورتوں کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
سپین کی وزیر کا بیان ان الزامات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ سعودی عرب کھیلوں کے بڑے مقابلوں کا انعقاد کرا کر اپنے ملک کی شہرت کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپورٹس واشنگ کی اصطلاح شاید نئی ہو، لیکنکیا یہ طریقہ پرانا ہے؟
پہلی مرتبہ 2015 میں سپورٹس واشنگ کی اصطلاح آذربائیجان کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ آذربائیجان تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔
آذربائیجان نے 2015 میں لالیگا کپ کی ٹیم ایٹلیٹکو میڈرڈ کو سپانسر کیا جس کے بعد سپورٹس واشنگ کی اصطلاح کا استعمال ہونے لگا۔ آذربائیجان نے اولمپکس آف یورپ یعنی یورپیئن گیمز کے انعقاد کے لیے رقم خرچ کی اور اس کا پہلا ایونٹ باکو میں ہوا۔ اس کے ایک سال بعد باکو کی گلیوں میں یوروپیئن گرینڈ پری کا انعقاد کیا گیا۔
باکو نے یوروپا کپ کا فائنل کرانے کی پیشکش کی اور 2019 میں یوروپا لیگ کا فائنل باکو میں ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بھی سرچ انجن پر ’ایف ون‘ یا ایتھلیٹکس سرچ کریں تو آذربائیجان فوراً سامنے آتا ہے اور اس طرح ان کا انسانی حقوق کے بارے میں ریکارڈ سرچ انجن میں نیچے چلا جاتا ہے۔
اس پوری مہم کے منصوبہ کاروں کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ جہاں اتنے بڑے ایونٹس کا انعقاد ہو رہا ہے اس ملک میں ساری چیزیں خراب تو نہیں ہوں گی۔
’یہ دیکھو یہ جمناسٹ، فٹبالر، تیراک وہاں اتنے مزے کر رہے ہیں۔‘
سپورٹس واشنگ کی اصطلاح تو شاید نئی ہو لیکن یہ طریقہ کار پرانا ہے۔ جب جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے اسے سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، تو وہ بھی کھیلوں کے بڑے مقابلے کرانے کی کوشش کرتے تھے۔ 1980 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی گرینڈ پری پر بہت تنازعہ ہوا۔
اب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے برے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کے لیے سپورٹس واشنگ کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے ملک کو بڑے سپورٹس ایونٹس سے جوڑنا
ایمنٹسی انٹرنیشنل نے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے برے ریکارڈ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ادارے نے اظہار رائے پر پابندیوں، خواتین کے حقوق غصب کرنے اور ایسے جرائم پر موت کی سزا دینے کی طرف توجہ دلائی ہے جو عالمی قوانین کی نظر میں جرم ہی نہیں ہیں۔
ایمنسٹی نے کہا کہ دنیا کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ترکی میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے اندر قتل ابھی یاد ہے۔ ایمنٹسی انٹرنیشنل نے کہا کہ سعودی حکمران کو شاید امید ہے کہ ایسے ایونٹ کرانے سے ان کی ساکھ بہتر ہو جائے گی اور سعودی عرب کا نام کھیل کے بڑے مقابلوں سے جڑ جائے گا۔
ایسے ایونٹ کرانے کے پیچھے یہ سوچ بھی کارفرما ہوتی ہے کہ کھیلوں کی بڑی تنظیمیں کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے پر زور دیتی ہیں۔ کھیلوں کی تنظیمیں اصرار کرتی ہیں کہ ان کے مقابلے غیر سیاسی ہوتے ہیں اور کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے۔ حتکہ فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم، فیفا ایسے ملکوں کو مقابلوں میں حصہ لینے سے روک دیتی ہے جہاں مقامی فٹ بال ایسوسی ایشنز میں سیاسی مداخلت کے الزامات سامنے آتے ہیں۔
ایسے ممالک جہاں سیاسی بحث پر پابندیاں عائد ہیں، ان کے لیے کھیلوں کے ایسے مقابلے بہت پرکشش ہوتے ہیں کیونکہ کھیلوں کی تنظیمیں سیاست کو کھیلوں سے دور رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں۔
انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کو 2008 بیجنگ اولمپکس کے موقع پر تبت کے حامیوں کے مظاہروں کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس طرح سوئٹزلینڈ کے دو کھلاڑیوں، گرینٹ یاکا اور زردان شکیری کو سربیا کے خلاف میچ میں گول کرنے کے بعد البانیا کے جھنڈے کا مذاق اڑانے کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تھا۔
بات کو چھپانے کی کوشش اس کی تشہیر کا باعث بنتی ہے
سپورٹس واشنگ کے بارے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب کسی ملک میں کھیل کا کوئی بڑا مقابلہ ہوتا ہے، تو اس کے شروع ہونے سے پہلے اس ملک کے ان متنازعہ موضوعات کے بارے میں بات ہونے لگتی ہے جنہیں وہ چھپانا چاہتا ہے لیکن جوں ہی مقابلہ شروع ہو جاتا ہے تو لوگوں کی توجہ کھیل کی طرف ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ کھیلوں کی خبروں کی بہتات ہے۔ مثال کے طور جب فٹبال ورلڈ کپ میں روزانہ چار مقابلے ہو رہے ہوں تو میڈیا کی ساری توجہ ان مقابلوں کی طرف ہوتی ہے اور اس ملک کے متنازعہ موضوعات پر بات کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
2016 کے ریو اولمپکس کے شروع ہونے سے پہلے ملک میں اتنے بڑے کھیلوں کے مقابلے کا انعقاد پر اٹھنے والے اخراجات کے خلاف احتجاج شروع ہوا لیکن ٹورنامنٹ کے شروع ہوتے ہی کسی کی احتجاجی مظاہرین پر توجہ نہ رہی اور وہ منظر سے غائب ہو گئے۔
ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اینتھونی جوشوا کو سعودی عرب میں مقابلے کے لیے رضامند کر کے ’بیوقوف‘ بنایا گیا ہے۔ تنظم کا مزید کہنا ہے کہ ’جہاں اہل اقتدار کے خلاف بات کرنے والوں کو گرفتار کرنا، دھمکیاں دینا یا ملک بدری عام ہیں‘۔
البتہ اینتھونی جوشوا کا موقف ہے کہ وہ انسانی حقوق کے گروپوں کے تحفظات کی قدر کرتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ’ایسے حکمران پر برطانیہ میں بیٹھ کر الزامات عائد کرنے سے بہتر ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت کی جائے‘۔
جوشوا کا کہنا ہے کہ ’ایک فرد ٹوپی پہن کر دنیا کو نہیں بچا سکتا‘۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ ہے کہ جوشوا کو ایسے سوالات کے جواب دینے پڑ رہے ہیں جبکہ مقابلے کے منتظمین نے یقیناً ایسا نہیں چاہا ہوگا۔
جو ممالک کھیلوں کے بڑے مقابلوں کا انعقاد کروا کر اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اکثر ان متنازعہ موضوعات پر بحث کو چھیڑنے کا موجب بن جاتے ہیں جس پر وہ بات کرنا نہیں چاہتے۔