آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر: لندن میں فضا سے گرنے والے شخص کی شناخت کا معمہ
رواں سال جولائی میں نیروبی سے لندن آنے والے کینیا ایئرویز کے طیارے کے نچلے حصے سے گرنے والے شخص کی شناخت کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔
تاہم گذشتہ ہفتے برطانوی چینل سکائی نیوز نے اپنی تحقیقات میں بظاہر اس شخض کی شناخت کا پتا لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ شخص طیارے کے لینڈنگ گیئر میں چھپا ہوا تھا۔
سکائی نیوز کے مطابق یہ شخص پال منیاسی ہے، جو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے جومو کنیاتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک کمپنی جس کے پاس ایئرپورٹ اور طیاروں کی صفائی کا ٹھیکہ ہے، کا ملازم تھا۔
تاہم کینیا میں حکام نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے جو طیارے سے گرنے سے ہلاک ہوا تھا۔
اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیل کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکائی نیوز کی تصاویر میں نظر آنے والا شخص پال منیاسی نہیں بلکہ سڈرک شیونجی آئزیک ہے جو ابھی زندہ ہے اور ایک غیر متعلقہ جرم کے الزام میں تین ماہ کے لیے زیر حراست ہے۔
حکومتی ترجمان سائرس اگونا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ خبر ’فیک نیوز ہے۔‘
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ خبر فیک نیوز ہے۔ سڈرک کے خاندان کی ان تک رسائی روکی نہیں گئی۔ آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں یہ کوئی اور ہے۔ تو ہمیں تحقیقات کرنے دیں۔‘
گرنے والا شخص کون، پال یا سڈرک؟
سکائی نیوز کی خبر کے بعد کئی سوال اٹھائے گئے ہیں، جیسے خبر میں پال منیاسی نامی شخص کون ہے؟ کیا یہ وہ شخص ہے جو طیارے سے گرا تھا؟ کیا یہ غلط شناخت کا کیس ہے؟ یا یہ کینیا کے حکام کی جانب سے کیس کو چھپانے کی کوشش ہے؟ اور سڈرک آئزیک کون ہے؟
سکائی نیوز کی تحقیقات نشر ہونے کے ایک روز بعد آئزیک بیتی نامی ایک شخص، جو پال منیاسی کا والد ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا، نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ اس کے بعد سڈرک آئزیک کا نام سامنے آیا۔
اب آئزیک بیتی نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا زندہ ہے اور اس کا نام سڈرک آئزیک ہے جو پولیس کی حراست میں ہے۔
بی بی سی نے اس کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی معلوم کیا ہے کہ تفتیش کاروں نے سڈرک اور ان کے خاندان سے جیل میں پوچھ گچھ کی ہے تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ ان کا پال منیاسی یا جہاز سے گرنے کے واقعے سے کیا تعلق ہے۔
کسی کو یہ معلوم نہیں کہ پال منیاسی کون ہیں، سوائے ان باتوں کے جو سکائی نیوز نے نشر کیں۔ تاہم کینیا کے حکام نے اس معلومات کی تردید کی ہے۔
کینیا کی ایئر پورٹ اتھارٹی اور کولنٹ نامی کمپنی جس کے پاس ایئرپورٹ اور طیاروں کی صفائی کا ٹھیکہ ہے، نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ پال منیاسی نام کے کسی شخص سے واقف نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پال منیاسی کے نام سے کبھی کوئی سکیورٹی پاس جاری نہیں کیا گیا۔
اس لیے طیارے سے گرنے والے شخض کی شناخت واضح نہیں ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ کہانی میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
یہ کیس کمزور ہے یا اسے چھپایا گیا؟
سکائی نیوز کی تحقیقات سے پہلے کینیا کے حکام نے اس کیس کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ وہ اسے ’جاری تحقیقات‘ کہتے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے کئی سکیورٹی ایجنسیوں سے معلومات کی درخواست کی گئی۔ تاہم ان کا جواب ’نو کمنٹ (کوئی جواب نہیں)‘ ہوتا تھا یا ان کی جانب سے کسی اور ایجنسی کی طرف بھیج دیا جاتا تھا۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات ایک ایسی ٹیم کر رہی ہے جس میں کئی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ تاہم کچھ زیادہ پتا نہیں چل سکا ہے۔
اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ یہ شخص ایئرپورٹ جیسی سخت سکیورٹی والی جگہ میں داخل کیسے ہوا۔
کینیا کی ایئرپورٹ اتھارٹی اور پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ تحقیقات میں ایئرپورٹ کے تمام عملے اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والی کمپنیوں کے تمام ملازمین سے جانچ پڑتال کی گئی ہے۔
اگر اس میں عملہ ملوث نہیں تھا تو ہو سکتا ہے کہ کسی باہر کے شخص نے طیارے میں داخلے سے قبل سکیورٹی کے تین مراحل کو عبور کیا ہو گا۔
اس صورتحال میں یہ ملک کے لیے سکیورٹی میں شرمناک کوتاہی سمجھی جائے گی کیونکہ کینیا کو حال ہی میں کیٹگری ون میں ڈالا گیا ہے جس سے کینیا کی پروازیں سیدھا امریکہ آ سکتی ہیں۔
برطانیہ کی میٹرو پولیٹن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے کینیا کے حکام کو اس شخص کی لاش سے انگلیوں کے نشانات فراہم کیے ہیں۔ کینیا میں حکام اب تک اس شخص کی شناخت کا پتا نہیں لگا سکے۔
یہ عجیب بات ہے کیونکہ کینیا میں 18 سال یا اس سے بڑی عمر کے تمام لوگوں کو شناختی کارڈ دینے سے قبل ان کے انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں جو کہ لازمی ہے۔
کینیا ایئرویز کے سامنے رکھے گئے سوالات
ایوی ایشن کے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کینیا ایئرویز کی اس پرواز کے پائلٹ سے پوچھا جانا چاہیے کہ آیا انھوں نے جہاز اڑنے سے قبل تمام ضروری ہدایات کی پیروی کی تھی۔
درحقیقت اس واقعے کے فوراً بعد کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ کیبے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عام طور پر یہی کیا جاتا ہے۔
’وہ طیارے کے ہر حصے کو چیک کرتے ہیں، جس میں انڈر کیریج، پہیے، بریک، ٹائر کی حالت اور پہیے کی جگہ شامل ہے۔ وہ ہر چیز کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس لیے جب یہ چیزیں چیک کی جا رہی تھیں تو ممکن ہے کہ یہ شخص وہاں موجود نہیں تھا، ورنہ اسے دیکھ لیا جاتا۔‘
تو پھر یہ شخص جہاز میں داخل کب ہوا؟ اور کیا پائلٹ نے فراہم کردہ سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی؟
اگر خلاف ورزی ہوئی ہے تو یہ ایئرلائن کی ایک بڑی غلطی ہو گی جو کہ کئی سالوں تک نقصان میں رہنے کے بعد منافع کمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ واقعہ کینیا کے لیے خطرے کا باعث کیوں؟
کینیا کے اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کیس سے ملک کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ کینیا اپنے بین الاقوامی کیٹگری ون سٹیٹس کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ میں وفاقی ایوی ایشن اور ٹرانسپورٹ سکیورٹی کی انتظامیہ باقاعدگی سے اس سٹیٹس کا جائزہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے ادارے کی ہدایات کے مطابق لیتے ہیں۔
عام طور پر ’اس بات پر توجہ دی جاتی ہے کہ ملک میں، نہ کہ انفرادی فضائی کمپنیوں میں، کتنی صلاحیت ہے کہ وہ بین الاقوامی ایوی ایشن کے حفاظتی انتظامات اور تجویز کردہ طریقہ کار کی پیروی کر سکتے ہیں۔‘
اگر امریکی حکام اس واقعے اور اس کی تحقیقات کا نوٹس لیتے ہیں اور کینیا کو ڈاؤن گریڈ کرتے ہیں تو ملک امریکہ میں اپنی پروازیں نہیں چلا پائے گا اور نہ ہی امریکی فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر پائے گا۔
اس سے امریکی ایئر پورٹس پر کینیا کی پروازوں کی زیادہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔
اس سے سیاحت اور باغبانی کی صنعتوں پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ کینیا نے ان شعبوں کو اپنی معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔