آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبان سے بچ کر بھاگ نکلنے والے افغان پناہ گزین کی کہانی
فرانسز آموس کی کشادہ آنکھیں، گول گال اور پھر اس پر مسکراہٹ سامنے کے چمکتے سفید دانت بھی ظاہر کر دیتی ہے۔ آموس صرف آٹھ ماہ کا ہے اور وہ دوست بنانے کے معاملے میں اپنے والد سے بھی آگے ہیں۔
ایک گرم سنیچر کی سہ پہر میں اور میرا بیٹا انڈونیشیا کے شہر باٹام کے ایک ہوٹل کے تالاب میں نہا رہے تھے۔
تالاب کے سرے پر کالے بالوں والے ایک شخص نے میرے بیٹے کے سامنے والے دانتوں کو غور سے دیکھا۔ اس نے ہاتھ ملایا اور مسکرا دیا۔ اس نے پھر سوال پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں؟
میں نے کہا ’ہم انگلینڈ سے ہیں، اور آپ؟‘
اس کا جواب تھا ’افغانستان۔ میں ایک پناہ گزین ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیسے جیسے سورج غروب ہو رہا تھا اور آسمان نارنجی رنگ کا ہو رہا تھا، وہ افغان مجھے اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ یہ کہانی موت کے خطرات، طالبان کا طیارہ اغوا کرنے اور سالہا سال پیش آنے والے اغوا کے پراسرار واقعات سے بھری ہوئی تھی۔
بہت سے پناہ گزینوں کی ایسی ہی یا اس سے بھی بدتر داستانیں ہیں، لیکن یہ داستان اس افغان پناہ گزین کی تھی اور یہ انڈونیشیا کے ہوٹل کے تالاب میں ایک اتفاقی ملاقات تھی۔
شمس، حسینی عرفان کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ وہ اب 21 برس کے ہیں اور افغانستان کے غزنی صوبے میں ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کے نزدیک واقع شہر ’سنگِ ماشا‘ میں رہ رہے ہیں۔
شمس کے دو چھوٹے بھائی اور ایک بہن بھی ہیں اور ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ ان کے والد جوتے بناتے تھے اور اپنے کچے مکان کے ساتھ چھوٹی سی زمین گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے کھیتی باڑی کرتے تھے۔
شمس کو 2001 سے پہلے کا افغانستان صحیح طرح یاد تو نہیں، لیکن انھیں معلوم ہے کہ وہ کیسا تھا۔ 2001 میں امریکی حملے سے پہلے وہ بہت چھوٹے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سکول بند تھے اور لوگوں کو تعلیم تک رسائی نہیں تھی۔
شمس ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو افغانستان میں بسنے والی تیسری بڑی قوم ہے۔ ہزارہ شیعہ مسلمان ہوتے ہیں اور وہ شکل و صورت میں دوسرے افغانوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔
یہ برادری کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی آ رہی ہے۔
سنہ 2001 کے بعد صور تحال میں بہتری آئی ہے۔ ظاہر ہے، حالات جتنے خراب تھے، ان کا مزید بگڑنا مشکل ہی تھا۔
شمس کے مطابق ہزارہ برادری نے ہمیشہ تعلیم کی حمایت کی اور وہ علم اور روشنی کے حمایتی ہیں۔ ’لوگوں نے سکول اور یونیورسٹی جانا شروع کر دیا۔‘
شمس کے سکول میں ہفتے میں ایک گھنٹہ انگریزی کی کلاس بھی ہوتی تھی۔ جب وہ 12 سال کے تھے تو انھیں ان کے چچا اور دیگر رشتہ داروں نے ایک نجی ٹیوشن سینٹر بھیج دیا۔ جب انھوں نے 15 برس کی عمر میں اپنے سے بڑی جماعت کا امتحان پاس کیا تو سینٹر کے ڈائریکٹر نے انھیں ملازمت کی آفر کر دی۔
نئی ملازمت میں شمس کی ذمہ داریوں میں پرائمری کلاسز کے بچوں کو پڑھانا اور کابل جا کر بچوں کے لیے کتابیں، پیپر اور دیگر اشیا خرید کر لانا شامل تھا۔ تنخواہ کوئی زیادہ تو نہیں لیکن شمس کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ ان کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور شمس کم عمری میں ہی اپنے خاندان کے سربراہ بن گئے تھے۔
’جب میں اپنی چھوٹی بہن اور بھائیوں کو دیکھتا تو مجھے خیال آتا تھا کہ مجھے ان کی زندگی بدلنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔ اس کے لیے مجھے جو بھی کرنا پڑا میں نے کیا۔‘
یہ 10 اکتوبر 2014 کی بات ہے جب شمس کابل جانے کے لیے ایک بس میں سوار ہوئے تاکہ وہ انگلش سینٹر کے لیے چیزیں لے کر آئیں۔ اس دن کے بعد سے وہ اپنے خاندان سے نہیں ملے۔
طالبان کو 2001 میں حکومت سے بے دخل کر دیا گیا تھا لیکن وہ کہیں دور نہیں گئے۔ سنگِ ماشا میں طالبان نے انگریزی سینٹر کے عملے اور طلبہ کو نشانہ بنایا۔
شمس کا کہنا ہے کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ انگریزی کافروں کی زبان ہے۔
انگلش سینٹر کو طالبان اور مقامی ملاؤں کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے۔ قریب کی مسجد میں کچھ مولوی حضرات تو بحث کرنے بھی آئے۔
ان کے بقول یہ انگلش سیکھنے کا مرکز نہیں بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی جگہ ہے۔
ملاؤں کے لیے تو انگلش پڑھانے کے علاوہ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ہی چھت کے نیچے پڑھانے کا گناہ زیادہ بڑا تھا۔
شمس بتاتے ہیں ’ہم ڈرے ہوئے تھے، لیکن کئی دہائیوں سے ناخواندگی کا شکار لوگوں کی مدد کی بھوک کسی بھی خطرے سے زیادہ تھی۔‘
دسمبر کے مہینے میں ایک سرد بدھ والے دن شمس کابل جانے والی بس پر سوار ہو گئے۔
سینٹر میں ملازمت کے دوران یہ شمس کا کابل کا تیسرا سفر تھا، لیکن وہ ہر بار جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔
کابل شمس کے گھر سے 274 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ راستے میں کارا باغ نامی جگہ سے بھی گزر ہوتا تھا جسے شمس ’ذبح خانہ‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس ہائی وے پر ہزارہ کمیونٹی کے کئی ہزار افراد کو ہلاک یا اغوا کیا۔
تین گھنٹے بعد بس کارا باغ پہنچی تو شمس کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا: مسلح طالبان نے بس کو روک لیا اور شمس کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔
جب وہ باہر نکلے تو طالبان نے انھیں تھپڑ مارے اور ان پر غصے سے چیخے چلائے۔
ہاتھوں میں بندوق تانے طالبان نے پہلا سوال ہی یہ پوچھا ’انگلش پڑھانے والا استاد کہاں ہے، کیا آپ ہیں وہ استاد؟‘
شمس جب انکار کرتا تو وہ ہر دفعہ اس کو تھپڑ مارتے۔ وہ نڈھال ہو گئے اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، ایسے جیسے انھیں چپ لگ چکی تھی۔ انھیں یہ یقین ہو چلا تھا کہ اب وہ مارے جائیں گے۔
ڈر ان کے جسم کے ہر حصے میں سرائیت کر چکا تھا۔
پھر ایک خاتون بس سے اتر کر نیچے آئیں اور شمس کی جان بچائی۔
خاتون چلاتی ہوئی بولیں: ’رک جاؤ، یہ وہ شخص نہیں ہے جس کی آپ کو تلاش ہے، یہ میرا بیٹا ہے۔‘
شمس اس خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا۔ طالبان نے شمس کو دیکھا۔ وہ بس 15 برس کے تھے اور ان کا حلیہ استادوں جیسا نہیں لگ رہا تھا۔
شمس بچ گئے۔ لیکن اس وقت کوئی جشن بھی نہیں منایا جا سکا۔ اب وہ خوش بھی نہیں تھے۔ شمس کا کہنا ہے کہ وہ اندر سے چور ہو چکے تھے۔
جب وہ کابل پہنچے تو انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ اس ذبح خانے کا رخ نہیں کریں گے اور یوں شمس نے دوبارہ سنگِ ماشا کا رخ کبھی نہیں کیا۔
کابل کے ایک ہوٹل میں شمس نے ایک ایسے ڈرائیور سے رابطہ کیا جو اکثر شمس کے ضلع سے لوگوں کو کابل لے کر آتا ہے۔ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ شمس جیسی کہانیاں بڑی عام ہے اور بہت سے لوگ کابل پہنچ کر پھر کبھی واپس نہیں لوٹتے۔
شمس اپنی جان بچانا چاہتے تھے۔ ڈرائیور نے اس کے لیے ایک سمگلر کا انتظام کیا جو اس سلسلے میں ان کی مدد کر سکتا تھا۔
جکارتہ پہنچ کر سمگلر نے شمس کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کروا لیں۔ شمس کو انڈونیشیا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ کبھی افغانستان سے باہر نکلے ہی نہیں تھے۔ لیکن یہاں گھر کے مقابلے میں سب کچھ بہتر تھا۔
شمس نے اپنے چچا کو فون کیا جو ایک چھوٹے سے کسان تھے۔ وہ سمگلر کو قسطوں میں 5000 ڈالر دینے پر آمادہ ہو گئے۔ انھوں نے ایک ہفتے انتظار کیا۔ تب شمس اپنے نئے پاسپورٹ کے ساتھ دہلی سے ہوتے ہوئے کوالالمپور پہنچے۔ پھر یہاں سے وہ انڈونیشیا پہنچ گئے۔
دیگر افغان پناہ گزینوں کے مقابلے میں یہ ایک بہت جلد جان بچانے والا سفر تھا۔ افغانستان سے یورپ کا سفر بہت طویل اور مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ شمس کا سفر بہت جلدی طے ہوا لیکن یہ اتنا بھی آسان اور محفوظ نہیں تھا۔
جب وہ ملیشیا کے ساحل پر پہنچے تو انھیں امید تھی کہ اب وہ فیری پر سمندری سفر طے کریں گے۔ اس کے بجائے وہ ایک لکڑی والی کشتی پر سوار ہوئے جس پر پہلے سے ہی کئی خاندان، نوجوان جوڑے اور کم عمر لڑکے سوار تھے۔
کشتی کے ایک کونے سے پانی اندر آرہا تھا۔ یہ ایک ماہ میں دوسرا موقع تھا جب شمس کو لگا کہ وہ مرنے والے ہیں اور اس بار یہ آبنائے ملاکا میں ہونے جارہا تھا۔
انڈونیشیا میں شمس کا ٹھکانہ
شمس کہتے ہیں یہ کوئی ایسی جگہ تو نہیں تھی جہاں زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ ’میں افغان جنگ میں محفوظ رہا، طالبان سے بچا اور اب میں پانی میں ڈوبنے جارہا ہوں۔‘
شمس بتاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں غلط خیالات آرہے تھے جیسے ’میرے خاندان کا کیا ہوگا؟ میرے خوابوں کا کیا بنے گا؟ اور یہی خیالات کشتی میں سوار دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں آرہے تھے۔‘
شمس کے مطابق ’میں ان کے چہروں پر دیکھ رہا تھا اور سب کچھ عیاں تھا۔ وہ سب ایک خوف کی کیفیت سے دوچار تھے۔‘
انھوں نے کشتی پر سفر جاری رکھا اور انڈونیشیا کے علاقے میڈن پہنچے اور پھر جکارتہ جو کہ وہاں سے 1900 کلومیٹر دوری پر تھا۔ گاڑی میں چھ لوگ سوار تھے اور انھیں فقط رات میں باہر نکلنے کی اجازت تھی۔ وہ دن میں رفع حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے تھے۔
خوراک کے بنا تین دن گزارنے کے بعد وہ دارالحکومت پہنچے۔
شمس نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کا دفتر ڈھونڈ لیا اور وہ وہاں گئے۔
انھوں نے سوچا کہ یہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔
ایسا ہی تھا لیکن اس طرح نہیں جیسا انھوں نے سوچا تھا۔
شمس کا خیال تھا کہ یو این ایچ سی آر والے ان کی کہانی سنیں گے اور انھیں رہنے کا ٹھکانہ دے دیں گے۔ لیکن بجائے اس کے انھوں نے شمس کا اندراج کیا اور کہا آپ دفتر سے چلے جائیں۔
انھوں نے شمس کو کہا کہ تم جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ اپنا نمبر دے جاؤ۔ باہر جاؤ اپنے دوستوں سے بات کرو۔
لیکن شمس کہتے ہیں کہ میرا کوئی دوست نہیں تھا میں انڈونیشیا میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔
دو راتیں گلی میں گزارنے کے بعد شمس کی ملاقات افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہزارہ لڑکے سے ہوئی۔
انھوں نے شمس کو بتایا کہ جکارتہ کے قریب حراستی سینٹر ہیں لیکن وہ بھرے ہوئے ہیں۔ اس ہزارہ لڑکے نے شمس سے کہا کہ انھیں مناڈو جانا چاہیے۔
یہ علاقہ جکارتہ سے جہاز کے ذریعے ساڑھے تین گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ لیکن وہاں حراستی سینٹر میں جگہ تھی۔ ہزارہ لڑکے کو ایک ایسی خاتون کا بھی علم تھا جو سفر کی سہولت کے لیے انتظامات کر سکتی تھی۔
شمس قید خانے میں نہیں جانا چاہتے تھے۔ ایسا کون چاہتا ہے۔ مگر شمس کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔
جکارتہ کی گلیاں تاریک تھیں۔ وہاں نہ خوراک تھی نہ پانی نہ ہی امید۔
ان کے پاس فلائیٹ کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔ مگر شمس نے خاتون سے منت کی تو وہ مان گئیں۔ جب وہ ماناڈو پہنچے تو امیگریشن آفس گئے اور رہائش کے لیے درخواست کی۔
لیکن یہاں بھی یو این ایچ سی آر کے دفتر والا معاملہ ہوا اور انھیں نکل جانے کو کہا گیا۔
ایک اور رات گلی میں گزارنے کے بعد امیگریشن کے عملے نے شمس کو ویٹنگ روم کے طور پر استعمال ہونے والا کمرہ دیا اور یہ سہولت تب تک تھی جب تک حراستی مرکز میں ان کے لیے جگہ بن جاتی۔
شمس وہاں 16 دن تک رہے۔
اس گھر میں سات بیڈرومز تھے جن میں سے ہر ایک میں 14 یا 15 افراد سوتے تھے۔ ایک ٹوائلٹ اور ایک شاور تھا لیکن دونوں کے لیے پانی کافی نہیں تھا۔
شمس کا کہنا ہے ’وہاں پانی اور کھانا تھا لیکن یہ بنیادی تھا، چاول، آلو، کبھی کبھار مرغی کا ونگ۔ 16 دن میں مجھے کوئی سبزی یاد نہیں آئی۔‘
لیکن سبزیوں کی کمی سے بھی بدتر آزادی کی کمی تھی۔
ایک پناہ گزین کی حیثیت سے وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے، کام نہیں کرسکتے تھے حتیٰ کہ سفر تک نہیں کرسکتے تھے۔
وہ انڈونیشیا کے اس گھر میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ اور طالبان بندوق برداروں کی یادوں سے نکل نہیں پا رہے تھے۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ایسا لگا جیسے کسی نے اس خوف کو میرے دماغ میں، میرے پورے جسم میں داخل کر دیا ہے۔ یہ مجھے ہر وقت پریشان کر رہا تھا۔ میں اپنے سر کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ رہا تھا۔‘
پھر سنہ 2016 میں انھیں اچھی خبر ملی کہ انھیں بند کیا جا رہا تھا۔
پونٹیانک کے حراستی مرکز سے، انڈونیشیا کے دوسری طرف مناڈو کے ایک مکان تک، یہ ایک جیل کی طرح تھا، جس میں اونچی باڑ، خاردار تاروں اور ٹپکتی چھت تھی۔ تو یہ اچھی خبر کیوں تھی؟
پونتیاک میں ان کی مہاجرین کی حیثیت سے کی جانے والی درخواست پر غور کیا جائے گا۔ ’پناہ گزین‘ ’پناہ کے متلاشی‘ سے اگلا قدم ہے کیونکہ یہ تیسرے ممالک میں منتقل ہونے کی اجازت دیتا ہے چاہے اس کے امکانات بھی کم ہی ہوں۔
لیکن وہاں امید تھی، یہ ایک لمبی، نہ ختم ہونے والی سرنگ تھی جس کے آخر میں چمکتی ہوئی روشنی تھی۔
شمس کا کہنا ہے ’یہاں تک کہ اگر آپ مجرم بھی ہیں، تو قید کی ایک خاص مدت موجود ہے ’لیکن مہاجرین کے لیے اس طرح کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ ہمیں انتظار کرنا پڑا اور انتظار ہی کرنا تھا۔‘
شمس نے مثبت کام کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے قیدیوں کو انگریزی کی تعلیم دی، مترجم کی حیثیت سے کام کیا اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجر (IOM) کے زیر اہتمام ایک بنیادی مشاورت کورس مکمل کیا۔
سنہ 2017 میں انھیں پناہ گزین کا درجہ ملا اور بالآخر 27 جولائی سنہ 2018 کو حراستی مرکز سے رہا کر دیا گیا کیونکہ انڈونیشیا کی حکومت نے ملک بھر میں ان سینٹروں کو بند کرنا شروع کر دیا تھا۔
یو این ایچ سی آر انفرادی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا تاہم ان کا کہنا تھا کہ دسمبر سنہ 2016 سے قبل انڈونیشیا میں پناہ گزینوں کی تقریبا 30 فیصد آبادی نظربند تھی، انڈونیشیا کے صدر کی طرف سے ایک قانون نافذ ہونے کے بعد بیشتر افراد کو ان مراکز سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
شمس کا نیا گھر باتم میں ’کمیونٹی ہاؤسنگ‘ تھا۔ یہ آئی او ایم کے لیے پسندیدہ ماڈل ہے اور انڈونیشیا میں ایسی 80 سہولیات ہیں جہاں 8200 سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔
آئی او ایم نے بی بی سی کو بتایا ’جیسا کہ شمس نے نوٹ کیا، انڈونیشی امیگریشن حراستی مراکز میں رہائش کے حالات انتہائی بنیادی ہیں۔‘
’آئی او ایم کا رول ان سہولیات میں نظربند پناہ گزینوں، ان کی صحت اور خوراک سمیت معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان کی مدد کرنا ہے جبکہ انڈونیشیا کے حکام سے قیدیوں کو رہائش میں منتقل کرنے کے لیے حمایت کرنا ہے۔‘
اپنی برادری کی رہائش گاہ میں شمس انگریزی سبق کے ساتھ ساتھ، وہ پر امن احتجاج میں شریک ہوئے، انھوں نے تیسرے ممالک خصوصاً آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈونیشیا سے زیادہ مہاجرین کو قبول کریں۔
اس کام کے ذریعے، جس کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی، اس نے فیس بک پر ایک آسٹریلوی خاتون سے ملاقات کی جو مہاجر وکیل کی حیثیت سے کام کرتی تھی۔ جب وہ اپنے کام کے سلسلے میں باتم پہنچی تو اس نے شمس کو اپنے ہوٹل میں پول استعمال کرنے کی دعوت دی۔
اور اسی وجہ سے شمس حسینی 21 سالہ افغان مہاجر، انگریزی کا استاد، طالبان سے زندہ بچ جانے والا، فرانسس آموز کو مسکراہٹ دینے کا قابل تھا، جو کہ گول رخسار، منھ میں ایک دانت اور آٹھ ماہ قبل جنوبی لندن میں پیدا ہوا تھا۔
تو یہ شمس کی کہانی ہے (پول میں ریلیز ہوئی، مزید تفصیلات کے ساتھ فون پر) لیکن یہ 21 ویں صدی کی کہانی بھی ہے۔ کیونکہ وہ لاکھوں بے گھر افراد میں سے ایک ہے جو اس کے حاشیے پر زندہ بچ گیا ہے۔
شمس کا باتم میں نیا گھر پونتیاک یا ماناڈو سے بہتر ہے اور وہ اس کے لیے شکر گزار ہے لیکن اس کے پاس ابھی بھی آٹھ بجے کا کرفیو ہے۔ آئی او ایم سے ملنے والے ماہانہ $ 99 پر زندہ رہتا ہے۔ سفر نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے یہ زندہ رہنا نہیں ہے۔ یہ بچنا ہے۔
وہ انسان دوست وکیل بننے، اپنے کنبے کو دوبارہ دیکھنے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان کی صورت حال خراب تر ہوتی جا رہی ہے لیکن وہ اس وقت تک مدد نہیں کرسکتا جب تک وہ انڈونیشیا سے باہر آباد نہیں ہو جاتا۔
شمس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک جو مجھے قبول کرے گا، میں جاؤں گا، کوئی حرج نہیں۔ اس وقت تک یہ انتظار جاری ہے، پانچ طویل اور تنہا سال۔
لیکن کارا باغ میں بس پر سوار پراسرار خاتون کی بدولت وہ اب بھی یہاں موجود ہے اور وہ اب بھی پر امید ہے۔
’اس عورت جس نے میری جان بچائی، تہہِ دل سے آپ کا شکریہ۔‘
شمس ان کا اختتام یوں کرتا ہے ’میں آپ کی مہربانی کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ مجھے امید ہے کہ کسی دن میں آپ کو اس کا بدلہ دے سکتا ہوں۔‘