امریکہ: ملازمت کی امیدوار کی تصویر لے کر اسے شرمندہ کیوں کیا گیا؟

    • مصنف, اندری ماسیہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک کمپنی نے ملازمت کی ایک امیدوار کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے اسے بطور مثال پیش کیا کہ ملازمت کے لیے درخواست ایسے نہیں دیتے۔

تصویر میں امیدوار نے ایک سوئم سوٹ پہن رکھا تھا۔

مارکیٹنگ کمپنی کک ایس ماسٹر مائنڈز نے انسٹاگرام پر ایک سلائڈ (جسے اب ہٹا دیا گیا ہے) میں امیدوار ایملی کلو کی تصویر لگائی اور اس کے ساتھ ہی پیشہ وارانہ تجویز پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں آپ نوکری کے امیدوار ہوں وہاں اپنے سوشل میڈیا اس صورت میں شیئر نہ کریں اگر اس پر ایسی چیزیں ہوں۔‘

کمپنی کا اکاؤنٹ اب پرائویٹ کر دیا گیا ہے اور انھیں مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں دیں گئی ہیں۔

ایملی کلو نے اس کمپنی میں ایک مارکیٹنگ رول کے لیے درخواست دی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ کمپنی خواتین کی بنائی ہوئی تھی، بظاہر خواتین کو سپورٹ کرتی تھی اور نئے کاروباریوں کے ساتھ کام کرتی تھی۔‘

مگر انھیں پبلک شیمنگ (عوامی سطح پر شرمندہ کیے جانے) پر شدید حیرانگی ہوئی۔

کمپنی کے پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’میں ایک پیشہ وارانہ مارکٹر کی تلاش میں ہوں نہ کہ ایک بکینی ماڈل کی تلاش میں۔‘

’آپ نجی طور پر جو مرضی کریں مگر یہ آپ کو ایک نوکری ڈھونڈنے میں کوئی مدد نہیں کر رہا۔‘

ایملی کلو کا کہنا ہے کہ نوکری کی درخواست پر انسٹاگرام یا فیس بک کا ہینڈل مانگا گیا تھا۔

اس کے بعد کمپنی نے تجویز کیا کہ وہ کمپنی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ فالو کریں اور پھر اس وقت انھیں پتا چلا کہ کمپنی نے اس کی تصویر لے کر اسے اس طرح پوسٹ کیا ہوا ہے۔

’میں نے ان کی انسٹا سٹوری دیکھی تو مجھے پتا چلا کہ انھوں نے میری تصویر کا استعمال کیا ہوا ہے۔‘

’سچ پوچھیں تو میں بہت حیران ہوئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیسے جواب دوں اور اس میں مجھے کچھ وقت لگا۔‘

ایملی کلو نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے سوچا کہ میں کمپنی سے رابطہ کروں، انھیں بتاؤں کہ میں نے تصویر ہٹا دی ہے اور میں ان کی تجویز کی شکر گزار ہوں۔‘

’پھر میں نے اپنا ریزیومے اور کوور لیٹر پھر بھیجا اور کہا کہ امید کرتی ہوں آپ سے جلد بات ہوگی۔ دوسری ای میل کے آخر میں میں نے ان سے کہا کہ برائے مہربانی میری تصویر اتار دیں۔‘

کمپنی کی سربراہ ساہ کرسٹنسن کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ایملی کلو نے درخواست کی ہم نے تصویر فوراً اتار دی۔

تاہم ایملی کلو کا کہنا ہے کہ انھیں تصویر ہٹانے کے لیے بار بار کہنا پڑا اور آخر میں انھیں بلاک کر دیا گیا۔ ’پھر میں نے سوچا کہ میں یہ معاملہ خود ٹوئٹر پر لے جاؤں۔‘

قتل کی دھمکیاں

ایملی کلو نے جب ساری بات ٹوئٹر پر کی تو لوگوں کی رائے منقسم تھی۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں کیونکہ ایملی کلو جہاں موجود تھیں اس کے مطابق لباس پہن رکھا تھا۔

مگر دوسری طرف ایک اور صارف نے کہا کہ کسی کو ملازمت پر رکھنے سے پہلے ان کا سوشل میڈیا چیک کرنا ایک عام بات ہے۔

ایک اور صارف کی رائے میں غلطی دونوں طرف ہے۔