سابق مصری صدر مرسی کے بیٹے عبداللہ کی شخصیت کیسی تھی؟

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے بیٹے عبداللہ محمد مرسی 26 برس کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں۔

اخوان المسلمین سے وابستہ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق عبداللہ محمد مرسی کی موت الجیزا کے ایک نجی ہسپتال میں ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق دل کا دورہ پڑنے سے قبل وہ گاڑی چلا رہے تھے جبکہ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود انھیں بچایا نہ جا سکا۔

عبداللہ مرسی کا انتقال ان کے والد محمد مرسی کے انتقال کے دو ماہ اور چند روز بعد ہوا ہے۔ مصر کے سابق صدر محمد مرسی، جنھیں سنہ 2013 میں فوج نے اقتدار سے معزول کر دیا تھا، 17 جون کو عدالت میں پیشی کے دوران گر کر انتقال کر گئے تھے۔

عبداللہ مرسی کون تھے؟

عبداللہ مرسی مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے پانچویں بیٹے تھے۔ وہ سنہ 1993 میں پیدا ہوئے اور سنہ 2013 میں وہ مصر انٹرنیشنل یونیورسٹی میں بطور فیکلٹی ممبر شامل ہوئے۔

سنہ 2014 میں انھیں منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور سنہ 2015 میں ان کی گرفتاری کی وجہ ’جھوٹی خبریں پھیلانا‘ بتائی گئی تھی۔

جولائی 2014 میں مصر کی ایک عدالت نے عبداللہ مرسی اور ان کے ایک دوست کو منشیات رکھنے کے جرم میں ایک سال قید اور 10 ہزار مصری پاؤنڈ جرمانہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کا کہنا تھا کہ عبداللہ اور ان کے دوست کو شرکیہ صوبے سے آتے ہوئے منشیات سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں اچانک کارروائی کے دوران دو چرس بھرے سگریٹ کے ساتھ پکڑا تھا۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ عبداللہ مرسی نے گرفتاری کے بعد اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے یہ منشیات اپنے استعمال کے لیے رکھی ہوئی تھیں۔

عبداللہ مرسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جبکہ عبداللہ کے بڑے بھائی اسامہ مرسی کے مطابق یہ مقدمہ خاندان کی عزت پر ایک حملہ تھا۔

سنہ 2015 میں عبداللہ مرسی کو ایک مرتبہ پھر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس بار ان پر جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام لگایا گیا جس کے عوض ان پر پانچ ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا اور بعد ازاں انھیں رہا کر دیا گیا۔

بڑی بھائی اسامہ مرسی

مصری حکام نے اسامہ مرسی کو ایسا ہتھیار رکھنے پر گرفتار کیا تھا جس میں گولی یا دھماکہ خیز مواد استعمال نہیں ہوتا۔ انھیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نو اگست کو عبداللہ نے فیس بک پر اپنے بھائی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

14 اگست کو انھوں نے ٹویٹر پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سمیت حکومت کے 15 عہدیداران پر صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد اخوان المسلمین کے اراکین کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور اس کا حکم دینے کا الزام لگایا تھا۔

محمد مرسی جمہوری طور پر منتخب ہونے والے مصر کے پہلے صدر تھے لیکن صرف ایک ہی برس کے بعد تین جولائی سنہ 2013 کو فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔