اسرائیل کا شام میں ایرانی عسکری تنصیبات کے خلاف ’بڑی فوجی کارروائی‘ کا دعویٰ

اسرائیل نے شام میں ایرانی فوجی تنصیبات پر حملہ کر کے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد اطلاعات کے مطابق لبنان میں بھی شامی سرحد کے نزدیک واقع وادی بقا میں ایک کارروائی کی ہے۔

سوشل میڈیا پر نمودار ہونے والی ویڈیوز میں رات کو دھماکوں کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

مقامی لبنانی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے ڈرونز نے پی ایف ایل پی نامی فلسطینی گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم اس کارروائی میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اتوار کو ایرانی نواز لبنانی عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل شام اور لبنان میں ان کی نقل و حرکت کو نشانہ بنا رہا ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا۔

ان کا یہ اعلان بیروت میں دو اسرائیلی نگران ڈرونز کی تباہی کے بعد سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل کی جانب سے لبنانی سرزمین پر یہ مبینہ کارروائی اس کی جانب سے شام میں ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی دعوے کے ایک دن بعد کی گئی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ایران، اسرائیل پر ڈرون حملے کی تیاری کر رہا تھا اور سنیچر کے روز کی گئی یہ کارروائی اس حملے کو روکنے کے لیے تھی۔

اسرائیلی فوج شاذو نادر ہی شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس حملے کے بعد اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ایران کے ’قاتل ڈرون‘ سے اسرائیل پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اپنی فوج کی اس ’بڑی فوجی کارروائی‘ کو سراہا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے سنہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے شام پر سینکڑوں کی تعداد میں حملے کیے ہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ ایران کو شام میں قدم جمانے سے روکا جا سکے۔

اسرائیل کے ایک فوجی ترجمان کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملے میں دمشق کے جنوب مشرق میں واقع شہر اقرابا میں ایران کی قدس فورس کو نشانہ بنایا۔

شام کے فوجی ترجمان نے ریاستی خبر رساں ادارے سنا نیوز کو بتایا کہ شامی اینٹی ائیرکرافٹ سسٹم نے ’گولان کی پہاڑیوں سے دمشق کی طرف جاتے ہوئے دشمن کے جہازوں کا سراغ لگا لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس جارحیت کا فوری جواب دیا گیا اور زیادہ تر اسرائیلی میزائلوں کو ان کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔‘

اپنی ٹویٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا ’میں ایک بار پھر دہرا رہا ہوں۔ ایران کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ ہماری فوجیں ایرانی جارحیت کے خلاف ہر جگہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اگر کوئی آپ کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو آپ اسے پہلے ہی مار دیں۔‘

ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اسرائیلی کارروائی کو ’خبطی کارروائیاں ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ صیہونی حکومت کی آخری کوششیں ثابت ہوں گی۔‘

ادھر اطلاعات کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اتوار کو حزب اللہ کے ایک مضبوط گڑھ میں اسرائیل کے دو نگران ڈرونز بھی گر کر تباہ ہوئے ہیں۔

حزب اللہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ایک بغیر پائلٹ والا خودکار ڈرون ان کے میڈیا سینٹر کی چھت پر گرا اور اس کے بعد دوسرا ڈرون آیا جو ہوا میں پھٹا اور قریب ہی گر کر تباہ ہو گیا۔

مقامی لوگوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ انھوں نے ایک بڑے دھماکے کی آواز سنی جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیلی فوج نے ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے اسرائیل کے مبینہ جاسوس ڈرونز کو ’لبنان کی خود مختاری پر کھلا حملہ‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ نئی جارحیت علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور صورتحال کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔‘

اسرائیل نے مبینہ طور پر گذشتہ ماہ عراق میں ہتھیاروں کے ایک ڈپو پر بھی فضائی حملہ کیا تھا۔ امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکی حکام نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے اخبار کو بتایا کہ 19 جولائی کو ہتھیاروں کے ڈپو پر ہوئے حملے کے پیچھے اسرائیل ملوث تھا۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق ایران، شام میں اسلحہ منتقل کرنے کے لیے اس جگہ کا استعمال کر رہا تھا۔ اسرائیلی فوجی حکام نے اس حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔