نائجیریا: اسیر رہنما شیخ ابراہیم الزکزکی کی پرتشدد مظاہروں کے بعد عدالت میں پیشی

نائجیریا میں پیر کے روز ایک شیعہ رہنما شیخ ابراہیم الزکزکی کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

شیخ ابراہیم الزکزکی کو سنہ 2015 میں ملک کی شمالی ریاست کاڈونا میں اپنے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپ کے بعد اقدام قتل اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان جھڑپوں میں شیعہ اسلامک موومنٹ کے 347 اراکین ہلاک ہوئے تھے جبکہ سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم الزکزکی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔

پیر کو ہونے والی سماعت طویل مقدمہ بازی کا حصہ ہے جو ان کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

شیخ زکزکی کے وکیل نے عدالت میں ان کی رہائی کی درخواست دے رکھی ہے تا کہ ان کا بیرون ملک علاج کرایا جا سکے۔ شیخ زکزکی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسیری کے دوران ان پر دو مرتبہ ہلکے فالج کا حملہ ہو چکا ہے اور ان کی بینائی بھی متاثر ہو چکی ہے۔

2016 میں ایک عدالتی تحقیقات سے معلوم ہوا تھا ملک کے شمال میں ہونے والی جھڑپ میں 300 سے زیادہ شیعہ مسلمانوں کو فوج نے ہلاک کیا تھا۔

اسی سال ابوجا کی وفاقی ہائی کورٹ نے شیخ زکزکی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ریاستی عدالت نے اس فیصلے کو نظر انداز کیا۔

ابوجا میں مظاہرے

زکزکی کے حامی ان کی رہائی کے لیے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں باقاعدگی سے مظاہرے کرتے رہے ہیں جن میں اکثر پُرتشدد واقعات پیش آتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک سینئیر پولیس افسر اور ایک صحافی مظاہرے کے دوران ہلاک ہوئے جبکہ مظاہرین کے مطابق اُن کے 20 افراد بھی ہلاک ہوئے۔

اس واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے نائجیریا کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی پرتشدد مہم کو روکیں اور تحقیقات کریں کہ اس گروہ کے خلاف وسیع پیمانے پر طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ کچھ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دینے سے بھی انکار کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر نائجیریا کی پولیس نے پرامن شیعہ مسلمان مظاہرین پر 22 جولائی کو غیرقانونی طور پر گولیاں چلائیں۔

نائجیریا میں ہیومن رائٹس واچ سے منسلک انیتی واگ نے کہا کہ بظاہر نائجیریا کی پولیس اسلامک موومنٹ کے خلاف آتشی اسلحہ استعمال کر رہی ہے اور یہ غیر قانونی ہے۔

احتجاج کا آغاز کب ہوا؟

22 جولائی کو ہونے والے احتجاج کا آغاز مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے اس وقت ہوا تھا جب ہزاروں مظاہرین نے سیکریٹریٹ کی جانب مارچ شروع کیا۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔

انڈیپینڈنٹ میڈیا نیوز سے منسلک محمد ابراہیم گماوا کہتے ہیں کہ انھوں نے پولیس کو دو خواتین اور دو مردوں پر فائرنگ کرتے 1ہوئے دیکھا۔

ابوجا میں موجود ایک یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انھوں (پولیس) نے ہماری جانب گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ انھیں پرواہ نہیں تھی کہ گولیاں کہاں لگ رہی ہیں۔

’ایک گولی میری بائیں ٹانگ پر لگی، پھر میرا بھائی مجھے وہاں سے دور لے کر گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں گئے لیکن انھیں وہاں سے جانا پڑا کیونکہ پولیس زخمی مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے ہسپتال کے اندر آ گئی تھی۔

’ہم نے دو مرتبہ اپنی جگہ تبدیل کی کیونکہ ہم پولیس سے خوفزدہ تھے۔ گولی اب بھی میری ٹانگ میں ہے، میرا خیال ہے کہ میری ٹانگ ٹوٹ چکی ہے اور مجھے پورے جسم میں بہت درد محسوس ہو رہا ہے۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 سے نائجیریا کے حکام اسلامک موومنٹ کے خلاف بہت زیادہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔

نائجیریا میں شیعہ آبادی کی تعداد

  • نائجیریا میں شیعہ اقلیت میں ہیں مگر ان کی تعداد بڑھ رہی ہے
  • سنہ 1980 میں قائم ہونے والی تنظیم 'اسلامک موومنٹ آف نائجیریا‘ ملک کی مرکزی شیعہ تنظیم ہے جس کی سربراہی شیخ ابراہیم کرتے ہیں
  • نائجیریا کی شمالی ریاستوں میں اس تنظیم کے اپنے سکول اور ہسپتال ہیں
  • ماضی میں اس تنظیم کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھگڑے ہوتے رہے ہیں
  • اس تنظیم کے ارکان تعلیم کے حصول کے لیے ایران آتے جاتے رہتے ہیں
  • سنی شدت پسند گروپ بوکو حرام شیعہ مسلمانوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں واجب القتل قرار دیتے ہیں۔