عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیے گیے دنیا کے نئے مقامات

،تصویر کا ذریعہReuters
ہر سال دنیا بھر سے قدرتی اور ثقافتی مقامات اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کے ساتھ ساتھ 'انسانی ارتقا میں اہمیت' کے باعث نمایاں ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کی کمیٹی کا اجلاس آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہو رہا ہے جہاں دنیا بھر سے عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے مقامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے عالمی ورثہ کے ادارے کا 43 واں اجلاس دس جولائی تک جاری رہے گا لیکن ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اب تک ان کی فہرست میں کن کن مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔
بائبلون کا قدیم شہر
اس فہرست میں سب سے پہلے عراق میں میسوپوٹیمیا تہزیب کے قدیم شہر بائبلون کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ کے مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
عراق سنہ 1983 سے عالمی سطح پر اس 4000 برس قدیم شہر کو عالمی ورثہ کے فہرست میں شامل کروانے کے لیے کوشاں تھا۔
یہ شہر اپنے قدیم 'ہینگنگ گارڈن' کے وجہ سے بھی مشہور ہے جس کا شمار قدیم دنیا کے سات عجائب میں ہوتا ہے۔
اس شہر کو حالیہ برسوں میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے محل تعمیر کرنے اور بعد میں امریکی افواج کے بطور اڈا استعمال کرنے سے بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کی عالمی ورثہ کے تحفظ کی کمیٹی نے آذربائیجان میں ہونے والے اجلاس میں اس قدیم مقام کو عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے عالمی قوانین کے تحت اس کے تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اور کون سے مقامات کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے، آئیے جانتے ہیں۔
آئس لینڈ کا وٹنا جوکل نیشنل پارک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس آتش فشائی علاقے کا 14 فیصد علاقہ آئس لینڈ کے کل رقبے پر مشتمل ہے۔ یہ نیشنل پارک وسیع برفانی تودوں اور دلفریب قدرتی نظاروں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں لاوا بہنے کے مقامات اور جانوروں کی وجہ سے منفرد ہے۔
فرنچ آسٹرل لینڈ اینڈ سیز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی سمندر میں ’جنت کا ٹکرا‘ قرار دیا جانے والے اس جزیرے کو بھی یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ کے فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہاں دنیا میں سب سے زیادہ مختلف انواع کے پرندوں سمیت کنگ پینگوئنز اور سمندری حیات پائی جاتی ہیں۔
انڈین شہر جے پور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی شمال مغربی ریاست راجستھان کا شہر جے پور جسے ’گلابی شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر عمارات کی تاریخ سنہ 1727 سے جا ملتی ہے جب اس قدیم شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہاں کی قدیم عمارات فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔
قدیم جاپان کے ٹیلوں پر بنے مقبرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان 49 مقبروں کی تاریخ تیسری صدی سے چھٹی صدی تک پرانی ہے۔ یہ جاپان کے شہر اوساکا میں موجود ہیں۔
یہ ٹیلے مختلف اشکال اور سائز میں موجود ہیں جن میں یہ تالے کی شکل میں بڑا ٹیلا بھی شامل ہے جو بادشاہ ننتوکو کے نام ہر رکھا گیا ہے اور یہ جاپان کا سب سے بڑا مقبرہ ہے۔
میانمار کا شہر باگان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس شہر میں پھیلے ہوئے بدھ مذہب کے ہزاروں مندر اس شہر کے دلکش منظر کو اور بھی حسین بناتے ہیں۔ میانمار کا قدیم دارالحکومت پہلی ہی اس کی بدولت سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
لاؤس کے مرتبانوں کے میدان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسطی لاؤس میں زی یانگ خونگ کے مقام پر پتھر کے بنے بڑے بڑے مرتبانوں کے میدان کو بھی اقوام متحدہ کے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پتھر سے بننے یہ بڑے بڑے مرتبان کی تاریخ آئرن ایج کے دور سے جا ملتی ہے جب انھیں تدفین کی رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔









