امریکہ میں خفیہ فیس بک گروپ: امریکی سرحدی پولیس کے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات

امریکی حکام ایک ایسے خفیہ فیس بک گروپ کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں جس پر مبینہ طور پر بارڈر پیٹرول کے اہلکاروں کی جانب سے تارکین وطن کے خلاف نسل پرستانہ اور جنسی امتیاز پر مبنی باتیں پوسٹ کی گئی ہیں۔

پروپبلیکا نامی صحافتی ادارے کے مطابق اس خفیہ گروپ کا نام ’آئی ایم ٹین ٹو ففٹین‘ ہے اور اس کے تقریباً 9500 ممبر ہیں، جس میں سرحد پر گشت کرنے والے سابق اور موجودہ اہلکار شامل ہیں۔

پروپبلیکا کے مطابق گروپ کی کچھ پوسٹوں میں تارکین وطن کی اموات کا مذاق اڑایا گیا تھا جبکہ دوسری پوسٹوں میں کانگریس کے لاطینی ممبران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پارڈر پیٹرول چیف کا کہنا ہے کہ ایسی پوسٹیں ’انتہائی نامناسب‘۔

یہ بھی پڑھیے

بارڈر پیٹرول چیف کارلا پرووست کے مطابق 'ہر وہ ملازم جس نے ہمارے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی جوابدے ہوگا۔'

پروپبلیکا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گروپ میں کانگرس کے ان لاطینی ممبران کا مذاق اڑایا گیا جو پیر کو ٹیکساس میں واقع تارکین وطن کے حراستی مرکز پر گئے تھے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹز اور ویرونکا ایسکوبار کو تارکین وطن سے ملنے پر نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ ان کے لیے 'فاحشہ' جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔

گروپ کی ایک پوسٹ میں ایک ممبر نے مشورہ دیا کہ ’ان خواتین پر میکسیکو کی معروف ڈش بریٹوز پھینکنے چاہییں‘۔ ایک دوسری پوسٹ میں جعلی تصویر کے ذریعے اوکیسیو کورٹز کو ایسے دکھایا گیا ہے جیسے وہ جنسی روابط قائم کر رہی ہوں۔

بی بی سی اس خفیہ فیس بک گروپ کے وجود کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ فیس بک پر اس گروپ تک عوامی سطح پر رسائی ممکن نہیں۔

امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن یا سی بی پی کے اسسٹنٹ کمشنر میتھیو کلین کے مطابق امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی نے اس فیس بک گروپ، جس نے ایجنسی کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی، کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سی بی پی کے کئی اہلکار اس گروپ کے ممبر ہوسکتے ہیں، لیکن اس سلسلے میں میتھیو کلین نے کوئی وضاحت نہیں دی کہ ان اہلکاروں کے اس گروپ میں کیا کردار تھا۔

اوکیسیو کورٹز نے بتایا کہ ایسی پوسٹوں نے انھیں بالکل حیران نہیں کیا اور یہ رویہ ان پر تب ہی ظاہر ہو گیا تھا جب وہ تارکین وطن کے حراستی مراکز کا دورہ کر رہی تھیں۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ سرحدی پولیس کے اہلکاروں نے جیل میں موجود خواتین کو 'بیت الخلا سے پانی پینے' کا کہا تھا۔

اپنے دورے کے بعد انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا 'مجھے معلوم ہے کہ سرحدی پولیس کے اہلکار مجھے جسمانی اور جنسی طور پر دھمکا رہے تھے۔'

سی بی پی نے سرکاری سطح پر ان کے بیانات کا جواب نہیں دیا۔

دوسری طرف دفترِ داخلہ یا ڈی ایچ ایس کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ تارکین وطن کے لیے پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور کسی سرحدی پولیس کے اہلکار نے انھیں زبردستی بیت الخلا سے پانی پینے کو نہیں کہا۔

ریو گرانڈے میں ایک باپ اور اس کی بیٹی کے ڈوبنے کی افسوس ناک تصویر منظرِعام پر آنے کے بعد اوکیسیو کورٹز اور دیگر قانون ساز حراستی مراکز کے دورے پر گئے تھے۔ ڈوبنے کے ایسے واقعات میں اضافے سے مہاجرین کا بحران ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔

سال 2017 میں منتخب ہونے کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستاویزات کے بغیر تارکین وطن کے داخلے پر سختیاں بڑھا دی ہیں۔

رواں ماہ میکسیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق دستاویزات کے بغیر تارکین وطن کو امریکہ میں داخلے سے روکا جائے گا۔

دستاویزات کے بغیر امریکہ آنے والے لوگوں کو ملک بدر کرنے اور حراست میں لینے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

فروری میں صدر ٹرمپ نے ملک کی جنوبی سرحد پر ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ اس بحران کا مقابلہ کیا جائے۔

گذشتہ ہفتے کے دوران امریکی کانگرس نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر امداد کے لیے چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کا پیکیج منظور کیا تھا۔