استنبول میں رجب طیب اردغان کی جماعت کو دو مرتبہ شکست دینے والے اِکرم امام اولُو کون ہیں؟

ترکی میں صدر رجب طیب اردغان کی جماعت کو استنبول میں میئر کے لیے دوبارہ ہونے والے انتخابات میں بھی شکست ہو گئی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد اب استنبول میں حزب مخالف کی جماعت کے امیدوار اِکرم امام اولُو شہر کے نئے میئر بن چکے ہیں۔

تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی ہوچکی ہے اور نتائج کے مطابق اِکرم امام اولو نے 54 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ امام اولُو نے مارچ میں ہونے والے انتخابات میں بھی حیرت انگیز کامیابی حاصل کی تھی لیکن حکمران جماعت کی انتخابی بے قاعدگیوں سے متعلق شکایت پر میئر کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

میئر کے انتخاب میں ہارنے والے سابق وزیراعظم بن علی یلدرم نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردغان نے بھی جیتنے والے امیدوار امام اولو کو مبارکباد دی ہے۔ صدر اردغان نے ٹویٹ میں لکھا کہ 'میں اِکرم امام اولو کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو ابتدائی نتائج کے مطابق جیت چکے ہیں۔'

استنبول کے نئے میئر کون ہیں؟

اِکرم امام اولو 1970 میں ترکی کے علاقے ترابزون میں پیدا ہوئے۔ استنبول کے 49 برس کے نو منتخب میئر امام اولو کا تعلق سیکولر ری پبلکن پیپلز پارٹی سے ہے۔

انتخابات سے قبل ان کے نام سے کم لوگ ہی واقف تھے۔ امام اولو نے بزنس مینجمنٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد استنبول میں اپنے خاندانی ریسٹورنٹس اور ریئل سٹیٹ کے کاروبار سے جڑ گئے۔ نرم گفتار والے امام اولو کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ٹوئٹر پر ان کے فالورز کی تعداد 350,000 سے بڑھ کر 2.75 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

اردغان کی طرح انھیں بھی فٹ بال کا شوق ہے اور وہ اپنے آبائی علاقے ترابزون کی فٹ بال ٹیم کے بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔

اس سے قبل امام اولو استنبول کے کم شہرت والے ضلع 'بیلک دزو‘ کے میئر بھی رہ چکے ہیں جہاں سے انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اگرچہ وہ میڈیا پر زیادہ مشہور نہیں تھے۔

انھوں نے مارچ میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اردغان کی حکمران جماعت استنبول کے بڑے وسائل چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔

اے ایف پی کے مطابق انھوں نے مئی میں یہ کہہ دیا تھا کہ وہ جمہوریت کی خاطر ہر صورت (اردغان ) کا مقابلہ کریں گے اور یہ یقیناً انقلاب ہوگا جب ہم (اس مقابلے کو) اس کے اختتام تک لے جائیں گے۔'

روایتی سیاست کے برعکس انھوں نے انتخابی مہم کے دوران مخالفین پر ذاتی حملے نہیں کیے۔ انھوں نے اپنی انتخابی مہم بہت مثبت انداز میں آگے بڑھائی۔ وہ گلی گلی گئے لوگوں سے ملے اور سوشل میڈیا پر ووٹروں کے ساتھ ان کی کیفے اور ہوٹلوں میں لی گئی سیلفیوں کا خوب چرچا رہا۔

سوشل میڈیا پر امام اولو کی مہم چلانے والے زلان کارکرت کے مطابق ’استنبول کے نو منتخب میئر عوام میں گھل مل جاتے ہیں جو کہ ہر امیدوار نہیں کرسکتا۔‘

اس کے علاوہ ان کے 'سب اچھا ہو جائے گا' جیسے انتخابی نعرے بھی بہت متاثر کر دینے والے تھے۔ انہیں یہ نعرہ ایک 13 برس کے لڑکے بیرکے نے دیا جو اس مہم کا حصہ تھا۔

ان کے مقابلے میں میئر کا انتخاب لڑنے والے بن علی یلدرم اردغان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں اور وہ 2016 سے 2018 تک ترکی کے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت ترکی میں وزیراعظم کا عہدہ ختم ہوچکا ہے اور تمام اختیارات صدر کے پاس ہیں۔ وہ نئی منتخب ہونے والی پارلیمنٹ میں سپیکر کے عہدے پر فائز تھے اور کچھ وقت وہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

استنبول میئر کا انتخاب

اس انتخاب کے نتائج اردغان کے لیے بڑا دھچکا ہیں جنھوں نے انتخاب سے قبل یہ کہا تھا کہ جو جماعت استنبول میں جیتے گی وہی پورا ترکی جیت جائے گی۔

اردغان کے سیاسی سفر کا آغاز بھی استنبول میں فتح سے شروع ہوا تھا۔ وہ پہلی بار 1994 میں اس تاریخی شہر کے میئر بنے تھے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اس بار اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ امام اولو اس کی اہمیت سے اردغان کی طرح خوب واقف ہیں۔ اردغان کے چیلنج کو تسلیم کرتے ہوئے انھوں نے اس بار انتخابی معرکہ سر کرنے کے لیے سب سے زیادہ محنت بھی کی اور زیادہ نمایاں فرق سے کامیاب ہوئے۔

اب کیا وہ اردغان کی طرح ترکی کے حکمران بننے کا خواب بھی دیکھتے ہیں، ان کے بقول اس کا فیصلہ وقت آنے پر ہی کیا جائے گا۔ البتہ استنبول میں کامیابی حاصل کرنے کے فوراً بعد امام اولو نے کہا کہ نتائج سے شہر اور ملک کے لیے نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک نئے سفر کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور اس کی بنیاد انصاف، برابری اور محبت پر استوار ہے۔ ان کی اس بات کا شاید یہ پس منظر بھی ہے کہ اس سے پہلے ترکی میں سیکولر جماعتوں کو فوج کی مدد سے اقتدار میں آنے کے الزامات کا سامنا تھا۔ استنبول میں مختصر وقفے کے بعد عوام نے سیکولر پارٹی کے امیدوار پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جیتنے کے بعد امام اولو نے اردغان کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

امام اولو نے اس بار مارچ میں ہونے والے انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

اردغان کی بہت بڑی غلطی؟

بی بی سی کے نامہ نگار مارک لون

ترکی کے سب سے مضبوط رہنما اردغان کے لیے یہ شکست کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔

نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ دوبارہ انتخابات کا فیصلہ ان کی ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

عین ممکن ہے کہ یہ شکست ان کی اپنی جماعت میں پھوٹ کا سبب بنے اور یہ اردغان کے طویل اقتدار کے خاتمے کی وجہ بن جائے۔ اگرچہ آئندہ عام انتخابات 2023 میں ہونے ہیں لیکن بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ انتخابات اب پہلے بھی ہوسکتے ہیں اور استنبول کے نتائج اس کی بڑی نشانی ہے۔

اپوزیشن کی جیت کے امکان پر اِکرم امام اولو نے کہا کہ وہ نفرت کا مقابلہ پیار سے کرسکتے ہیں۔ صدر اردغان کا مقابلہ کرنے کی ری پبلکن پیپلز پارٹی کی یہ حکمت عملی بہت مؤثر رہی ہے۔

انھوں نے اس شہر کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے 25 سال انتظار کیا ہے اور یہ ناقابل یقین کامیابی حاصل کی ہے۔ اب وہ ان لمحات سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ شاید اب یہیں سے ان کو آگے بڑھنے کا رستہ بھی مل گیا ہے۔

استنبول کی سڑکوں پر جشن

بی بی سی کے استنبول میں نامہ نگار چاگل کاساپولو کے مطابق نو منتخب میئر امام اولو کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے بیشک تاش میں ان کے سینکڑوں حمایتی جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ ابتدا سے ہی جیت سے متعلق امید اب مکمل جشن میں بدل چکی تھی۔

پرامید نوجوان ترکی کے جھنڈے لہراتے ہوئے جشن مناتے رہے۔ سیاسی کارکنان نے ترکی کے بانی کمال اتاترک کی تصاویر والے بینر ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے۔ کچھ نے تو امام اولو کے ماسک بھی اپنے چہروں پر چڑھائے ہوئے تھے۔

ان میں سے بہت سے نوجوان تو صرف اردغان کی جماعت کو ہی حکومت میں دیکھتی آئی ہے۔ ان کے لیے یہ پورے ملک میں تبدیلی لانے کی ایک نئی لہر ہے۔

ایک 22 برس کے نوجوان ایچے یلمز جو ایک مقامی یونیورسٹی کے طالب علم بھی ہیں کا کہنا تھا کہ 'بہت سے ترک نوجوان ملک چھوڑنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن شاید اب وہ دوبارہ ترکی میں رہنے کے بارے میں ہی سوچیں۔ اب ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔'

یہ انتخاب اتنے اہم کیوں؟

اردغان کا تعلق بھی استنبول سے ہے۔ وہ خود 1994 میں اس شہر کے میئر منتخب ہوئے۔ انھوں نے 2001 میں اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور 2003 سے 2014 تک ترکی کے وزیراعظم رہے، جس کے بعد وہ ملک کے صدر بن گئے۔ ان کی پارٹی میں پھوٹ پڑنا شروع ہوچکی ہے اور یہ انتخابی نتیجہ اس میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے ایک صحافی مرات یتکِن کا کہنا تھا کہ 'اردغان بہت زیادہ پریشان ہیں۔'

امام اولو جب مارچ میں 13000 کے کم مارجن سے جیت گئے تو یلدرم نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ حکمران جماعت نے الزام عائد کیا کہ ووٹ چوری کیے گئے اور بہت سے انتخابی اوبزرور بغیر اجازت کے اس عمل کو مانیٹر کرتے رہے جس کے بعد الیکشن بورڈ نے دوبارہ انتخاب کروانے کا اعلان کیا تھا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ سب صدر اردغان کے دباؤ پر ہوا۔

'وہ ہر پتا استعمال کر رہے ہیں۔ اگر وہ یہ انتخابات ہار جاتے ہیں تو یہ 25 سال سے ان کے سیاسی عروج کے زوال کی ابتدا ہوگی۔ حقیقت میں وہ اب بھی صدر ہی ہوں گے اور پارلیمنٹ کا کنٹرول ان کے اتحادیوں کے پاس ہی ہو گا لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی یہ شکست ان کے طویل اقتدار کے خاتمے کی شروعات ہوگی۔'