آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’فلسطینیوں کو آزادی چاہیے، اربوں ڈالروں کی باتیں نہیں‘
فلسطین کے وزیرِ خزانہ نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے منصوبے کے اقتصادی حصے کو غیر حقیقی اور ایک خواب و خیال قرار دیا ہے۔
وزیرِ خزانہ شُکری بشارا نے کہا ہے کہ فلسطینی خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر بات چیت کی ضرورت نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے لیے 50 ارب ڈالرز کی مالیت کے ایک اقتصادی ترقی کے منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے ہے۔
اس تجویز کا عرب ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا ہے البتہ خلیجی بادشاہتوں اور امارتوں میں اس کا خاموش قسم کا خیر مقدم ہوتا نظر آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی عرب جیسے ممالک اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس کانفرانس کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بحرین کے دارالحکومت مناما میں 25 اور 26 جون کو ایک کانفرنس میں اس امریکی تجویز پر غور کیا جائے گا جسے صدر ٹرمپ کے داماد جاریڈ کُشنراسرائیل اور فلسطینے تنازعے کے حل کے لیے پیش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
50 ارب ڈالرز کے ایک عالمی فنڈ کے ذریعے عرب ممالک اور فلسطینیوں کے علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسے 'امن سے خوشحالی' کا نام دیا گیا ہے۔
اگرچہ اس میں کئی عرب ممالک شرکت کریں گے لیکن فلسطینی حلقے اسے اصل تنازع کو نظر انداز کرنے کو کوشش قرار دیتے ہیں۔
فلسطینی سنہ 1967 سے پہلے کے آزاد فلسطینی علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
فلسطینی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ہم امن چاتے ہیں تاکہ ہم ترقی کر سکیں۔ 'پہلے ترقی اور پھر امن ایک غیر حقیق خواب و خیال ہے۔'
'سب سے پہلے ہمیں ہماری زمین اور آزادی واپس کی جائے۔'
جیراڈ کشنر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کہا ہے کہ جس منصوبے کو 'ڈیل آف دی سینچری' (اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ) اُسے دراصل 'آپورچیونیٹی اف دی سینچری' (صدی کا سب سے بڑا موقع) کہا جاسکتا ہے۔
فلسطینی وزیرِخزانہ بشارا نے کہا کہ فلسطینیوں کو 'اوسلو اکارڈ' کے بعد سے امریکہ کے ساتھ کام کا تلخ تجربہ ہوا ہے۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطینیوں کو ملنے والی مالی امداد بھی بند کردی ہے۔
انھوں نے کہ کہ ہم اس ڈیل آف دی سینچری کے بارے میں محتاط ہیں اور شک و شبہات رکھتے ہیں۔