پیرس کی فضاؤں میں پاکستانی فائٹر جیٹ کی گھن گرج

پیرس ایئرشو ایوی ایشن انڈسٹری کا ایک بہت بڑا شو ہوتا ہے جہاں دنیا بھر سے ممالک اور پرائیوٹ کمپنیاں اپنے دفاعی سازو سامان کی نمائش کرتی ہیں۔ اس بار صرف دو ممالک سے جنگی طیارے نمائش کے لیے بھیجے گئے۔

airbus a330

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیرس ایئرشوکے دوران اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوتے ہیں۔ 2019 کا پیرس ایئرشو یورپ کی طیارہ سازکمپنی ایئربس کے لیے سب زیادہ کامیاب رہا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ایئر بس نے 700 مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔
max737

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ جو اپنے بوئنگ 737 میکس کے دو طیارے کریش ہونے کی وجہ سے اپنی ساکھ کے بدترین مرحلے میں ہے، اس کے لیے ایئرشو بہت کامیاب رہا۔ برطانیہ کی ہوائی کمپنی اے آئی جی نے بوئنگ کے ساتھ 200 بوئنگ 737 میکس طیاروں کی طیاروں کا سودا کیا۔ موجودہ حالات میں یہ سودے بوئنگ کمپنی کی مالی صحت اور ساکھ کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
جے ایف تھنڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2019 کے پیرس شو میں زیادہ جنگی طیارے نہیں آئے۔ پاکستان نے چین کے تعاون کے ساتھ تیار ہونے والا جے ایف 17 تھنڈر طیارہ پیرس ایئرشو میں بھیجا۔ اس کےعلاوہ فرانس کے ڈیسالٹ رافیل طیارے نے اپنے شو میں حصہ لیا۔ پاکستانی جے ایف تھنڈر نے جو درمیانے سائز کا ملٹی رول طیارہ ہیں، طیارہ بینوں کو اپنی صلاحیتوں سے متاثر کیا۔
rafale

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈیسالٹ رافیل طیارے جو بھارت نے خرید رکھے ہیں ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق رافیل نے 2017 کے ایئرشو میں جن کرتبوں کا مظاہرہ کیا، ایک بار پھر انھیں کو دہرایا۔ رافیل طیارے کی قیمت پاکستانی طیارے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔
ایف 35

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے اپنے جدید طیارے ایف 35 کو پیرس ایئرشو میں ساکت نمائش کے لیے بھیجا۔ ایف 35 ایک بار پہلے پیرس ایئر شو میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ روس نے نیٹو اتحاد کی مختلف پابندیوں کی وجہ اپنے جنگی طیاروں کو پیرس ایئر شو میں نہیں بھیجا۔
Boeing's KC-46 tanker

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبوئنگ کمپنی نے فضا میں ایندھن مہیا کرنے والے طیارے کے سی 46 طیارے کو پیرس ایئرشو میں بھیجا۔ بوئنگ کمپی نے کے سی 46 طیارے کو تیار کیا ہے۔
Kawasaki P-1 maritime patrol aircraft

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجاپان جو اپنی کارروں کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے اب وہ طیارہ سازی کی مارکیٹ میں اپنا حصہ لینے کے لیے میدان میں اتر آیا ہے۔ جاپان نے پیرس ایئر شو میں میری ٹائم ایئر کرافٹ کاوساگی پی ون کو نمائش کے لیے بھیجا۔ کاواساکی دنیا میں واحد طیارہ ہے جو صرف میری ٹائم خدمات کے لیے تیار ہوا ہےاور فلائی بائی لائٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعے پرواز کر سکتا ہے۔
safran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی کمپنی میگنکس نے پہلی بار ہائبرڈ اور الیکٹرک طیارہ انجنوں کی پیرس ایئرشو میں نمائش کی۔ پیرس ایئرشو کو دیکھنے تین لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں جہاں ڈھائی ہزار کمپنیاں اپنی منصوعات کی نمائش کرتی ہیں۔
Brazilian aircraft

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرازیل ایئرفورس نے اپنے طیارے کے سی 390 کو 2019 پیرس ایئرشو میں بھیجا۔ برازیل کا یہ طیارہ مختلف رول ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو فوجی مقاصد کے علاوہ کمرشل اور ایگزیکٹو اور زرعی شعبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
The Atak

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترکی کی کمپنی ترکش ایروسپیس انڈسٹری نے اپنے جنگی ہیلی کاپٹر ’اٹیک‘ کو پیرس ایئر شو میں نمائش کے لیے بھیجا۔ اٹیک پیرس ایئرشو کے دوران اپنی صلاحیتوں کی نمآئش کر رہا ہے۔