آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے بعد چینی کمپنی ہواوے کے روس سے معاہدے
ٹیلی کمیونیکیشن کی سب سے بڑی چینی کمپنی ہواوے نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اب فائیو جی ٹیکنالوجی روس میں بنائی جائے گی۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب پچھلے ہی ماہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی طرف سے ہواوے پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کے الزام کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہواوے اور روسی کمپنی ایم ٹی ایس کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں کمپنیاں ’روس میں 5 G (فائیو جی) پر مل کر کام کریں گی اور سنہ 2019 اور 2020 کے دوران اس ٹیکنالوجی کو تجرباتی بنیادوں پر لانچ کر دیا جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس معاہدے پر دستخط اس وقت ہوئے ہیں جب چینی صدر شی جِنگ پِنگ نے روس کے تین روزہ دورے کا آغاز کیا ہے۔
گذشتہ چند ماہ سے ہواوے پر شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد یہ معاہدہ کمپنی کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہواوے اس تنازع میں پھنسی کیسے؟
ہواوے امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جانے والی تجارتی جنگ کا مرکزی جزو بن گئی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ دنیا کی اس سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو اپنے فائیو جی نیٹ ورکس سے ہٹائیں کیونکہ چینی حکومت ہواوے کی مصنوعات کے ذریعے جاسوسی کر سکتی ہے۔
ہواوے ان الزامات کو متسرد کرتی ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی حیثیت آزاد ہے اور ان کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کچھ ممالک نے اپنے ہاں ہواوے کے بنے ہوئے فائیو جی موبائل نیٹ ورکس کے آلات کی درآمد کو روک دیا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے ہواوے پر پابندیاں لگانے کی کوششوں میں پچھلے ماہ اس وقت اضافہ ہو گیا تھا جب ٹرمپ انتظامیہ نے اس پر باقاعدہ پابندیاں لگا دیں۔ ان پابندیوں کے باعث کوئی امریکی کمپنی لائسنس کے بغیر ہواوے کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتی۔
امریکہ کے ہواوے پر پابندیاں لگانے کے فیصلے کی دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کا مقصد
شی جِن پِنگ کے روس کے تین روزہ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور باہمی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر چینی صدر نے اپنے روسی ہم منصب کو اپنا 'بہترین دوست' قرار دیا ہے۔
چینی صدر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین کے تنازع میں مغربی ممالک سے تعلقات خراب ہونے کے بعد سے صدر ولادی میر پوتن بھی اپنے ملک کے مشرق میں واقع ممالک سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چینی صدر کے اس دورے کے دوران دونوں ملکوں نے کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور اس کے علاوہ چینی صدر نے ماسکو کے چڑیا گھر کے لیے دو پانڈے بھی تحفہ کیے ہیں۔
بدھ کو روس پہنچنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے صدر شی جِنگ پِنگ کا کہنا تھا کہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ان کی ’ذاتی دوستی بہت گہری‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چھ برسوں میں ہم تقریباً 30 مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ روس وہ ملک ہے میں نے جس کے سب سے زیادہ دورے کیے ہیں اور صدر پوتن میرے بہترین دوست اور رفیقِ کار ہیں۔‘
اس کے جواب میں صدر پوتن نے بھی صدر شی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’یہ کہتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ روس اور چین کے تعلقات ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ یہ دوستی عالمی سطح کی ہے اور ہمارا تعاون سٹریٹیجِک ہے۔‘