آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موصل آج بھی کھنڈر، ’دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند اگلے حکم کا انتظار کر رہے ہیں‘
عراق کے شہر موصل میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست ہوئے دو سال بیت گئے ہیں۔ اس خونریز لڑائی میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے تاہم یہ شہر آج بھی کھنڈر دکھائی دیتا ہے۔
شہر کی تعمیر نو نہ ہونے پر شہری اضطراب کا شکار ہیں۔ مزید بتا رہی ہیں بی بی سی کی نامہ نگار شائمعہ خلیل۔
دریائے دجلہ کے مغربی جانب آباد قدیم شہر موصل عراق کی جان ہوا کرتا تھا مگر اب یہاں صرف کھنڈرات ہی باقی ہیں۔
اس شہر کی بیشتر گلیاں سنسان ہیں، کہیں کہیں چند مٹھی بھر لوگ اور بلڈوزرز دکھائی دیتے ہیں۔ خستہ حال عمارتیں گولیوں سے چھلنی دکھائی دیتی ہیں۔
اس قدیم شہر نے عراقی فوج اور دولت اسلامیہ کی لڑائی کے دوران بہت تباہی دیکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں کبھی تاریخی عظیم مسجد النوری اور اس کا مقبول جھکا ہوا الحادبہ مینار موجود تھا۔
اب بچے یہاں اس کے ملبے پر چڑھ رہے ہیں اور کچھ اس ملبے کے کباڑ سے بیچنے کے لیے لوہا تلاش کر رہے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ موصل بھر میں موجود ملبے میں آج تک انسانی لاشیں اور دھماکا خیز مواد دفن ہے۔
شہر بھر کی دیواروں پر لوگوں، خصوصاً بچوں کو اشتہارات آویزاں کر کے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک چیز کو ہاتھ نہ لگائیں۔
جب جولائی 2017 میں حکومتی فوج نے موصل پر دوبارہ قبضہ کیا تو اس وقت اس کو ایک بڑی فتح گردانا گیا تاہم اس سے یہاں کے رہنے والوں کو بہتر زندگی کے مواقع میسر نہیں آئے۔
قدیم شہر کے ایک باسی نے مجھے بتایا کہ’ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، نہ خوراک ہے، یہاں کی ہوا بھی صاف نہیں ہے، پانی بھی آلودہ ہے، نہ سکول ہیں نہ ہسپتال۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘
محمد ہاشمی الغد نامی ریڈیو سٹیشن چلاتے ہیں، جس کی بنیاد سنہ 2015 میں رکھی گئی تھی تاکہ دولت اسلامیہ کے دور میں یہاں رہنے والے موصل کے شہریوں کو ایک آواز مل سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ’ لوگوں کو دولت اسلامیہ سے آزادی ملے دو سال ہو چکے ہیں لیکن یہاں ابتک جو کچھ ہوا ہے وہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔‘
محمد ہاشمی کے مطابق ان کے ریڈیو سٹیشن الغد پر لوگ کرپشن، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور شہر کی تعمیر نو کے متعلق اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔
’دولت اسلامیہ کی حکمرانی سے آزادی کے بعد یہاں کی عوام بہت مثبت تھی۔ وہ سنہری دور تھا مگر اب بدقسمتی سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان کو احساس ہو گیا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔‘
حال ہی میں دریائے دجلہ میں ہونے والا کشتی کا حادثہ جس میں 100 سے زائد افراد مارے گئے تھے، نے یہاں کے شہریوں میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ انھوں نے شہر کی سڑکوں پر مقامی حکام کے خلاف کرپشن اور غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے مظاہرے بھی کیے تھے۔ تب سے شہر کے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ بھی نکالے گئے ہیں۔
محمد ہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کچھ لوگوں کے لیے آخری حد تھی۔
موصل کی یونیورسٹی دریائے دجلہ کے مشرقی جانب واقع ہے۔ یہاں کی گہما گہمی اور قدیم شہر کی حالت میں واضح فرق تھا۔
یہ یہاں کے شہریوں کے زندگی میں آگے بڑھ جانے کے پختہ عزم کی دلیل بھی تھی۔
گندی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں نوجوان خواتین رنگ برنگے دوپٹوں میں دکھائی دیتی تھی۔ مردوں کا ایک گروہ اپنے تعمیراتی اوزاروں کے ساتھ پختہ سڑک پر بیٹھا کام کی تلاش میں تھا۔
مرد اور خواتین یونیورسٹی کیمپس کے دوسری جانب سڑک پر واقعے کیفیز اور ریستورانوں کا رخ کر رہے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دور میں ایسا کم ہی سننے کو ملتا تھا۔
سکیورٹی اور کرپشن بھلے ہی موصل کے اہم مسئلے ہیں مگر بے روزگاری یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق موصل کی نصف نوجوان آبادی بے روزگار ہے۔
عاصمہ الراوی، 22 سالہ طالب علم ہیں جو سنہ 2014 میں اپنے خاندان کے ہمراہ اس وقت موصل چھوڑ کر چلی گئی تھیں جب دولت اسلامیہ نے شہر پر قبضہ کیا تھا۔ جب سے وہ اپنے شہر واپس لوٹی ہیں انھیں یہاں زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا ہے ’دوبارہ سے کچھ برا ہو جائے گا، ہمیں شاید اپنا گھر دوبارہ کھونا پڑے، ہمیں شاید دوبارہ اپنا شہر چھوڑنا پڑے، ہمیں بھی شاید اپنی زندگی کھونی پڑے جیسے یہاں بہت سے افراد نے کھوئی ہے۔ ایسے میں مثبت رہنا بہت مشکل ہے جب آپ ان حالات میں زندگی گزار رہے ہوں۔‘
موصل میں متعدد حملے ہوئے ہیں جن کا الزام دولت اسلامیہ کے سلیپر سیلز پر لگایا گیا ہے۔
اکتوبر 2018 میں شہر کے جنوب میں واقع ایک بارونق بازار میں کار بم حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اور اگلے ماہ شہر کے مغربی پررونق علاقے میں ایک اور کار بم حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔
عاصمہ کے استاد، علی کا کہنا ہے کہ معاشرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’موصل ہمیشہ سے کثیرالثقافتی شہر رہا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘
موصل میں بسنے والے بہت سے مسیحی واپس نہیں آئے۔ یہ بہت دلخراش بات ہے کہ جب آپ موصل کے مغربی علاقے میں جائیں تو آپ کو اب بھی مسیحی آبادی خالی ملے گی، ان کے گرجا گھر بھی اب تک کھنڈر ہیں۔
علی نے ان خاندانوں کو شہر میں رہنے پر بھی خبردار کیا جنھوں نے صحرا میں قائم کیمپوں میں دولت اسلامیہ کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام ان کے ساتھ مناسب طریقے سے پیش نہیں آ رہے۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ’ اس طرح سے تو انتہا پسندی اور دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کی نئی نسل کو تیار کرنے کا نیا طریقہ فراہم کر رہے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ پہلے ہی عراق میں ایک حفیہ نیٹ ورک کے طور پر ابھر رہی ہے اور وہ عراقی صوبوں انبار اور کرکک کے دورافتادہ صحرائی علاقوں میں دوبارہ سے منظم اور اکھٹی ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ عراق اور ہمسایہ ملک شام کے علاقوں میں شاید 15000 سے 20000 تک مسلح عسکریت پسند متحرک ہیں۔
موصل میں موجود عراقی الیٹ کمانڈو یونٹ کے ایک رکن محمود حمادی نے بتایا کہ ’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اب آگے کیا کرے گی، میں نہیں بتا سکتا کہ ان کا اگلا قدم کب اور کیا ہوگا۔ موصل کے شہریوں کا خوف حق بجانب ہے۔ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند قتل و غارت، بم دھماکے یا خودکش حملوں کے اپنے اگلے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
حمادی نے مزید کہا کہ ’اگر موصل کا کوئی سیاسی حل نکالا جاتا تو یہاں سب کچھ ٹھیک ہوتا۔ مگر سیاستدانوں کی لڑائی اور تناؤ نہ شہر کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔‘
دولت اسلامیہ نے اپنا علاقہ کھویا ہے مگر اپنا اثر نہیں گنوایا۔
غربت، کرپشن، بے روزگاری اور لوگوں میں بڑھتی فرقہ وارانہ بے چینی نے پانچ سال قبل شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو موصل پر قبضہ کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔
اور جب تک شہر کے ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، دولت اسلامیہ تب تک خطرہ بنی رہے گی۔