امریکہ: دھوکہ دہی کا الزام، ٹرمپ کی صدارتی مہم کے سابق سربراہ پال مینافورٹ کو جیل بھیج دیا گیا

امریکی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے سابق مینیجر پال مینافورٹ کو ٹیکس اور بینک سے دھوکہ دہی کے الزام میں 47 ماہ جیل کی سزا سنائی ہے۔

انھیں گذشتہ موسمِ گرما میں یوکرائین میں سیاسی مشاورت سے حاصل ہونے والے لاکھوں ڈالر کی آمدن چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

پال مینافورٹ کو آئندہ ہفتے ایک اور مقدمے میں بھی سزا دی جائے گی۔

یہ الزامات امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ آیا ٹرمپ کی صدارتی مہم نے روس کی ملی بھگت سے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب جیتے تھے۔

امریکی محکمۂ انصاف کے خصوصی وکیل رابرٹ روبرٹ مولر کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی 22 ماہ کی تحقیقات کو ختم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سماعت میں کیا ہوا؟

69 سالہ مینافورٹ نے جمعرات کی شام ورجینیا کی عدالت کو بتایا ’گذشتہ دو سال ان کی زندگی کے مشکل ترین سال تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں شرمندہ ہوا ہوں اور شرمندگی محسوس کر رہا ہوں یہ گھٹا کر بیان کرنا ہے۔‘

انھوں نے جج ٹی ایس ایلس سے کہا ’وہ ان پر رحم کریں۔‘

مینافورٹ نے یہ بھی کہا ’میں جانتا ہوں کہ یہ میرا عمل ہے جو مجھے یہاں لایا ہے. میری ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی لڑکھڑاہٹ کا شکار ہے۔‘

جج ایلس کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ میفرٹ نے ’غلط طرز عمل میں ملوث ہونے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا ہے۔‘