وینزویلا: سپریم کورٹ نے اپوزیشن رہنما ہوان گوائدو پر سفری پابندیاں عائد کر دیں

وینزویلا کی سپریم کورٹ نے حزبِ اختلاف کے رہنما ہوان گوائدو پر سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے تمام بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہوان گوائدو نے گذشتہ ہفتے اپنی نگران صدارت کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حمایت یافتہ گوائدو کا کہنا ہے کہ اگر صدر نِکولس مدورو اقتدار چھوڑ دیں تو اُن کو معافی دی جا سکتی ہے۔ تاہم شمالی اور جنوبی امریکی ممالک نے کسی بھی قسم کی بیرونی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیرو کے وزیر خارجہ نیسٹر پاپولیزو کا کہنا ہے کہ کینیڈا سمیت 14 ممالک پر مشتمل لیما گروپ بھی اس تنازعے کا پر امن حل چاہتا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے مسئلے کے حل کے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے سنہ 2013 میں اوگو چاویز کے مرنے کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

وینزویلا کی حزب مخالف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اورصدر مدورو پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 21 جنوری سے لے کر اب تک وینزویلا میں جاری احتجاج کے دوران 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

وینزویلا صدر مدورو کے دور حکومت میں معاشی بدحالی کا شکار رہا ہے۔ افراط زر میں ہوش ربا اضافہ، بجلی کی بندش اور بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا کی قلت نے لاکھوں افراد کو ملک سے نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات کیا ہیں؟

سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اپوزیشن رہنما ہوان گوائدو کو نہ صرف ملک سے باہر سفر کرنے سے روکا گیا ہے بلکہ ان کے بینک اکاونٹس کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔ صدر مدورو کی حامی سپریم کورٹ کے مطابق گوائدو کے خلاف ملک کا امن خراب کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی جن کے مکمل ہونے تک وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

دوسری طرف گوائدو کا کہنا ہے کہ ملک کے امن کو ان سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں موجود امریکی بینک کا کنٹرول گوائدو کے حوالے کرنے کے اعلان کے فوراً بعد آیا ہے۔

امریکہ کی دھمکی

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اپنی ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے احکامات پر ردعمل دیتے ہوئے جمہوریت کو سبوتاژ اور گوائدو کو نقصان پہنچانے والوں کو سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

گوائدو کی جانب سے قائم مقام صدر بننے کے اعلان کے 35 منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پران کو صدر تسلیم کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں صدر مدورو کی حکومت کو 'غیرقانونی' قرار دیا۔ بیان میں مدورو کو کہا گیا کہ وہ وینزویلا کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں مت ڈالیں ورنہ ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہے لیکن 'تمام آپشنز موجود ہیں۔'

امریکہ وینزویلا کو یہ بھی متنبہ کر چکا ہے کہ امریکی سفیروں یا ہوان گوائدو کے خلاف کسی بھی خطرے کا 'بھر پور جواب' دیا جائے گا۔

صدر نکولس مدورو کا ردعمل

امریکہ کے گوائدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد صدر نکولس مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں دوبارہ انتخابات کروانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ گوائدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کر لیں گے۔ تاہم وینزویلا کے صدر مدورو نے یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الٹی میٹم ہر صورت واپس لیا جانا چاہیے۔