آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یمنیوں کو بھوک سے نجات پانے کی امید، لیکن خدشات برقرار
یمن کی خانہ جنگی کے دوران جنگ بندی کی امید بہت ہی کم تھی۔ لیکن گزشتہ ہفتے سویڈن کے ایک پرفضا مقام پر فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات ملک میں امن کی امید پیدا کر چلے ہیں۔
یمن کی بحیرہ احمر پر قائم حدیدہ کی بندرگاہ سے متعلق فریقین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے ایک روز بعد، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گرفتھ نے نیویارک میں سکورٹی کاؤنسل کے اجلاس میں بتایا کہ یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
لیکن ساتھ ہی مسٹر گرفتھ نے خبردار کیا کہ جنگ کو امن میں بدلنے کا کام انتہائی دشوار اور وقت طلب ہے۔
یمن میں حالات پل بھر میں بگڑ سکتے ہیں۔ امن کی اس امید کے صرف چند گھنٹے کے اندر ہی اطلاعات موصول ہوئیں کہ مشرقی حدیدہ کے علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
سٹاک ہوم میں ہونے والا معاہدہ انتہائی نازک ہے، گو اس میں متعدد اہم معاملات پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
اس جنگ بندی نے عام یمنی شہریوں کے لیے ایک امید پیدا کردی ہے۔ یہ لوگ ایک لبمے عرصے سے اس جنگ سے بری طرح متاثر تھے۔ ایک یمنی خاتون کارکن نے سوشل میڈیا پر شائع کیے جانے والے ایک پیغام میں کہا 'کیا امن کے لیے ایک خصوصی پیغام نہیں ہے؟'
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب سعودی عرب اور اس کے قریبی اتحادی متحدہ عرب امارات پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے کہ خطے کے غریب ترین ملک میں جنگ کے خاتمے میں مدد کریں اور اسے مکمل تباہی سے بچائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امن کے لیے اب اگلی رکاوٹ ہے اس معاہدے کا حدیدہ کے اطراف میں نفاذ ۔ اس تقریباً چار برس سے جاری لڑائی میں سعودی عرب کی حمایت والی یمنی حکومت کو ایران کے حمایتی حوثیوں کے مدمقابل کیا ہوا ہے۔
معاہدے کے نفاذ کے لیے مسٹر گرفتھ کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور مؤثر نگرانی کا نظام نہ صرف لازمی ہے بلکہ اس کی ضرورت ہنگامی بنیادوں پر ہے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کی حمایت سے نگرانی کا ایک نظام وضع کیا جارہا ہے جو امید ہے کہ جلد نافذ کیا جائے گا۔
تاہم انٹرنیشنل کرائسز گروپ سے وابستہ، یمن کے حالات کے تجزیہ نگار پیٹر سالسبری کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے اور ایک ذرا سی اشتعال انگیزی پورے امن کے عمل کو تباہ کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس پورے عمل کو مسٹر گرفتھ اور ان کی ٹیم کی متواتر نگرانی کی ضرورت ہے۔
یمنی حکومت کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حوثیوں پر نظر رکھیں گے اور اگر اگلے چار روز میں انہوں نے اپنے تمام جنگجوؤں کو حدیدہ سے نہیں نکالا تو یہ معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔
جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں حوثی جنگجوؤں کو حدیدہ سے نکل جانا ہے، جہاں ان کا کنٹرول ہے۔ دوسرے مرحلے میں فوجوں کو آس پاس کے علاقوں کو بھی خالی کردینا ہوگا۔
حوثیوں کے لیے حدیدہ سے نکل جانا تشویش کا باعث ہے۔ وہ حکومت اور ان کے حمایتی سعودیوں اور اماراتی مطالبوں کو پہلے ہی رد کر چکے ہیں جن میں ان سے حدیدہ سے نکل جانے کو کہا گیا تھا۔ یہ بندر گاہ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات حدیدہ میں فوجی فتح کے لیے کوششیں کرتے رہے لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ ان کو لگتا ہے کہ اس بندرگاہ پر قبضے کے بعد حالات مکمل تبدیل ہوجائیں گے اور ایران کے اثرورسوخ کو ختم کردیا جائے گا۔ وہ ایران پر اس بندر گاہ کے ذریعے یمن میں اسلحہ سمگل کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو لاکھوں لوگوں کو بھوک سے بچایا جا سکتا ہے۔ دو تہائی یمنی اس وقت خوراک کے لیے امداد پر انحصار کر رہے ہیں جن میں ایک کروڑ ایسے ہیں جن کو یہ بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کو اگلے وقت کا کھانا ملے گا یا نہیں۔