آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا؟ سعودی شہزادے کا لاعلمی کا اظہار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرانا ایسے ہے جیسے ’ثابت کیے جانے تک قصور وار‘ ٹھہرانا۔
دوسری جانب ترک سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مزید شواہد ملے ہیں کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے۔
اس معاملے کے باعث سعودی عرب پر اپنی قریب اتحادیوں کی جانب سے کافی دباؤ کا سامنا ہے۔
جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو سعودی عرب کے قونصل خانے کی عمارت کے اندر جاتے دیکھا گیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں قتل نہیں کیا گیا اور وہ عمارت سے نکل گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی شہزادے نے کیا کہا؟
صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار شہزادہ محمد بن سلمان کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ شہزادہ محمد نے ان سے فون پر بات کی اور انھوں نے ترکی میں قونصل خانے کے اندر ہونے والی کسی بھی کارروائی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا ’انھوں نے مجھے بتایا انھوں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جلد ہی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور تمام سوالات کے جواب دیے جائیں گے۔‘
اس معاملے پر سعودی حکام سے بات کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی سعودی عرب گئے ہیں۔
ایک مبہم بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے کہا کہ مائیک پومپیو نے منگل کو سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ریاض میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ترکی میں صحافی جمال خاشقجی کی گشمدگی کے حوالے سے بات چیت کی۔
ترجمان کے مطابق مائیک پومپیو نے شاہ سلمان کی جانب سے جمال خاشقجی کی گمدشگی کی شفاف تحقیقات کروانے پر رضامندی ظاہر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ہیدر نوریت کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی۔ پومپیو نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر محمد بن سلمان کو صدر ٹرمپ کی تشویش سے آگاہ کیا۔
ترجمان کے مطابق مائیک پومپیو اور محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کی گمشدگی پر شفاف اور بروقت تحقیقات کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر اس معاملے پر بات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کی گشمدگی کے پیچھے کچھ 'بدمعاش قاتل' بھی ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات کیسے جاری ہیں؟
تحقیات کے دوران ترکی میں سعودی قونصل خانے کی 200 میٹر دور واقع رہائش گاہ کی بھی تلاشی لی جانی ہے۔
ترک حکام کے مطابق اس میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ مشترکہ تحقیقات کے لیے کسی سعودی اہلکار کو تعینات نہیں کیا گیا۔
خاشقجی کی گمشدگی کے روز کئی سعودی سفارتی گاڑیاں قونصل خانے کی عمارت سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف گئیں۔
روئٹرز نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ انھیں قتل سے متعلق ’ٹھوس شواہد ‘ ملے ہیں تاہم کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صوتی ثبوت موجود ہیں جن سے خاشقجی کے قتل کے اشارے ملتے ہیں۔