چرنوبل پلانٹ: جہاں 24 ہزار سال تک انسان آباد نہیں ہو سکتے

یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے لیکن وہاں اس نے جوہری توانائی کی تباہ کاریوں کے بعد اب شمسی توانائی کا پلانٹ لگایا ہے۔

چرنوبل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین میں سابقہ چرنوبل جوہری پاور سٹیشن کے مقام پر ایک نیا شمسی توانائی کا پاور پلانٹ بنایا گیا ہے۔ خاردار تاروں کے درمیان سے یہ پاور پلانٹ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
چرنوبل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ وہ مقام ہے جہاں سنہ 1986 میں جوہری تباہی آئی تھی۔
کیئف میں تھائرائڈ کینسر کا علاج
،تصویر کا کیپشناس جوہری پلانٹ سے ریڈیو ایکٹو یعنی تابکار شعائيں نکل پڑیں تھیں جو یورپ کے بعض علاقوں کی فضا میں پھیل گئی تھیں اور جس کی وجہ سے تھائرائڈ کینسر میں اضافہ دیکھا گیا۔
چرنوبل کی فضا سنہ 2010 میں
،تصویر کا کیپشناس پلانٹ کے پاس کے ایک ہزار مربع میل پر پھیلے وسیع علاقے کو علیحدہ رکھا گیا ہے اور یہ ممنوعہ علاقہ جہاں کوئی نہیں رہتا۔
چرنوبل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچرنوبل جوہری پلانٹ کے منصوبے کو واپس لے لیا گيا اور اسے سنہ 2000 میں بند کر دیا گیا۔
چرنوبل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین نے اب اس بڑے متروکہ وسیع علاقے میں اپنے پہلے شمسی توانائی کے پلانٹ کا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔
پانچ اکتوبر کو لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین کی حکومت چاہتی ہے کہ قابل تجدید توانائی کی کمپنیاں اس متروک زمین کو فروغ دیں۔
چرنوبل

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس پاور پلانٹ سے اتنی بجلی پیدا ہوگی جو تقریبا دو ہزار گھروں کو توانائی فراہم کرے گی۔
شمسی توانائی کے پلانٹ پر چمکتا ہوا سورج

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے لیکن یہاں شمسی توانائی کے پلانٹ پر چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا جا سکتا ہے۔