انڈونیشیا زلزلہ: ہلاکتیں 844 ہو گئیں، متعدد افراد ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں

انڈونیشیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کے جانی اور مالی نقصانات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں

خدشہ ہے کہ جمعے کو آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد انڈونیشیا کے شہر پالو میں متعدد افراد ابھی تک عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

امدادی کارکن بھاری مشینری کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ایک ہوٹل اور شاپنگ سینٹر کے ملبے کو صاف کیا جا سکے۔ فی الحال آفٹر شاکس کی وجہ سے وہاں جانا محفوظ نہیں ہے۔

ملبے میں پھنسے بعض لوگوں کو پانی اور خوراک پہنچائی گئی ہے اور کچھ لوگ مدد کے چلا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق زلزلے اور سونامی سے مرنے والوں کی تعداد 844 تک پہنچ گئی ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو نے علاقے کے دورے کے موقعے پر زور دیا کہ 'دن رات' کوشش کر کے متاثرین کو ملبے تلے سے نکالا جائے۔

امدادی کام کتنا دشوار ہے؟

مقامی میڈیا کے مطابق شاپنگ مال کے ملبے کے نیچے سے موبائل فون کے سگنلز کی نشان دہی ہوئی ہے اور رویا رویا ہوٹل کے نیچے سے لوگوں کو چیختے پکارتے سنا گیا ہے۔

ایک رضاکار طالب بوانو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوٹل کے ملبے سے تین لوگوں کو نکالا گیا ہے جہاں 50 سے زائد لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'ہم نے مختلف جگہوں پر ایک بچے سمیت لوگوں کی چیخ پکار سنی ہے۔ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ ہم نے ان کی ہمت بندھائی تاکہ ان کے حوصلے برقرار رہیں کیوں کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہیں۔

'ہم نے انھیں پانی اور خوراک دی لیکن وہ یہ نہیں چاہتے۔ وہ باہر نکلنا چاہتے ہیں۔'

اس زلزلے سے سمندر میں چھ میڑ یا 20 فٹ اونچی سونامی لہر بھی پیدا ہوئی۔

بھاری مشینری کی ضرورت

انڈونیشیا زلزلہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنزلزلے سے تباہ شدہ مسجد

ملک کے امدادی ادارے کے سربراہ محمد سایوگی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ انھیں ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری درکار ہے تاکہ ملبے کو ہٹایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا عملہ متاثرہ علاقوں میں موجود ہے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ڈونگالا کے قصبے کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہونے والے نقصانات کے بارے میں دو دن گزر جانے کے باوجود مکمل تفصیلات موصول نہیں ہو سکی ہیں۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفات میں کم از کم 16 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آفات میں ہونے والا اصل نقصانات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جمعے کو آنے والے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں بدستور ہلکے اور تیز جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں اور پورے ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کالا نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

صدر جوکو ودودو پالو شہر میں ہیں اور انھوں نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے جس میں تالیسی کا سیاحتی ساحلی علاقہ بھی شامل ہے۔ یہ ساحلِ سمندر جو سیاحوں میں بہت مقبول ہے شدید ترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔

پالو شہر میں کیا صورت حال ہے۔

اس ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ساحلی شہر میں ہزاروں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں جن میں بہت سے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

کئی جگہوں پر لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں اور زخمیوں کو عارضی خیموں میں طبی امداد مہیا کی جا رہی ہے۔ ہستپالوں کی عمارتیں بھی اس قدرتی آفت میں تباہ ہو گئی ہیں۔

خوف زدہ اور پریشان شہریوں نے پالو شہر میں کھلے آسمان تلے رات بسر کی۔ حکام نے انھیں اپنے گھروں میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

انڈونیشیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزلزلے کے بعد بھی ہلکے اور تیز جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں

اتنے لوگوں کی ہلاکتیں کیسے ہوئیں؟

زلزلوں پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ 7.5 شدت کا زلزلہ زمین کی سطح سے صرف دس کلو میٹر نیچے آیا۔

جس وقت زلزلہ اور سونامی کی لہر اٹھی اس وقت بہت سے لوگ پالو شہر کے ساحل پر ایک تہوار کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سنمدر کی لہریں کئی عمارتیں، ایک مسجد اور ایک پل کو بہا کر لے گئیں۔

پالو شہر کے ہوائی اڈے پر ایئر ٹریفک عملے کا ایک اہلکار ایک جہاز کو بحفاظت پرواز کرنے میں معاونت کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ جہاز بحفاظت اڑان بھر گیا ہے۔