افغانستان کے صدر کا قتل: حفیظ اللہ امین کی اہلیہ نے محل پر سوویت حملے کے دوران کیا دیکھا تھا؟

پتمنہ امین، افغانستان کے سابق صدر حفیظ اللہ امین کی اہلیہ
،تصویر کا کیپشنپتمنہ امین، افغانستان کے سابق صدر حفیظ اللہ امین کی اہلیہ
    • مصنف, یاما باریز
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

کمرے میں داخل ہوتے ہی ان پر نظر پڑی۔ سفید رنگ کا دوپٹہ سر پر تھا اور وہ ایک کرسی پر بیٹھی تھیں۔ برسوں کا درد ان کے چہرے سے عیاں تھا۔ انھوں نے سر اٹھایا، مسکرائیں اور کہا: ’خوش آمدید۔‘

یہ پتمنہ امین تھیں، افغانستان کے سابق صدر حفیظ اللہ امین کی اہلیہ۔ ہم پہلے صحافی تھے جو جلاوطنی کے دوران ان سے ملنے کے لیے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ان کے گھر گئے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک سادہ اپارٹمنٹ میں زندگی گزار رہی تھیں۔

سابق سوویت یونین کی فوج نے 24 دسمبر 1979 کو افغانستان پر حملے کے بعد صدر امین کو قتل کر دیا تھا۔ ان کی حکومت کا اختتام انتہائی خوں ریز تھا، تاہم اقتدار تک پہنچنے کا سفر بھی پر تشدد واقعات سے جڑا ہوا تھا۔

انھوں نے سردار محمد داؤد خان کے خلاف بغاوت میں اہم کردار ادا کیا، جسے ان کے حامی ’ثور انقلاب‘ کہتے ہیں۔ اس بغاوت میں سردار داؤد خان اپنے خاندان سمیت مار دیے گئے تھے۔

پتمنہ امین اپنے شوہر حفیظ اللہ امین کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنپتمنہ امین اپنے شوہر حفیظ اللہ امین کے ساتھ

میں نے پتمنہ امین کی وہ تصاویر پہلے بھی دیکھی تھیں جن میں وہ صدر امین کے ساتھ تقریبات میں نظر آتی تھیں۔ مگر ان کا چہرہ میری توقع سے کہیں زیادہ بدل چکا تھا۔

وہ شان و شوکت اب باقی نہیں تھی، اور میرے سامنے سفید بالوں والی ایک غم زدہ خاتون بیٹھی تھیں، جن کا افغانستان کی سیاست سے براہ راست تعلق نہیں تھا مگر وہ اس کے اہم متاثرین میں سے ایک تھیں۔

وہ زیادہ تر خاموش رہیں لیکن 27 دسمبر کو تاج بیگ محل پر سوویت فوج کے حملے کی یاد آج بھی ان کے دل میں تازہ تھی۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

امین روسی فوجوں کے ملک میں داخل ہونے سے چار روز قبل ہی کابل کے مرکز میں صدارتی محل سے شہر کے جنوب مغربی مضافات میں تاج بیگ محل منتقل ہوئے تھے۔

پتمنہ امین کے لیے اس رات کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں تھا۔ انھوں نے ابتدا میں کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کر سکیں گے، تاہم بعد میں آہستہ آہستہ وہ بولنے لگیں۔

پتمنه امین اپنے بیٹے ببری امین، بیٹی ورمہ امین، بی بی سی کے صحافی یاما باریز اور سید عبدالله نظامی کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنپتمنه امین اپنے بیٹے ببری امین، بیٹی ورمہ امین، بی بی سی کے صحافی یاما باریز اور سید عبدالله نظامی کے ساتھ

واضح رہے کہ حفیظ اللہ امین کے خلاف آپریشن کرنے والے گروپ کے نائب کمانڈر اولیگ بالاشوف کے مطابق اس گروپ کی قیادت الفا اور ویمپیل کے دو ایلیٹ یونٹس کر رہے تھے اور ہر گروپ میں 15 سے 20 فوجی کمانڈو شامل تھے۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ الفا گروپ نے حفیظ اللہ امین کو نشانہ بنایا۔ دونوں گروہوں کو خفیہ طور پر افغانستان لایا گیا اور انھیں مسلم بٹالین کے ساتھ ملا کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ آپریشن مقامی یونٹوں نے کیا ہے۔

پتمنہ امین بتاتی ہیں کہ ’امین کو کندھے میں گولی لگی تھی۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر اپنے نوجوان بیٹے عبد الرحمان اور محافظوں کو گولیاں پہنچا رہی تھی۔‘

’لیکن آخرکار گھر میں موجود تمام گولیاں ختم ہو گئیں۔ عبدالرحمان نے آواز دی کہ مزید گولیاں لائیں۔ ہم نے کہا کہ گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔ اس نے بندوق زمین پر پھینک دی۔‘

عبدالرحمان امین
،تصویر کا کیپشنعبدالرحمان امین

گولیاں ختم ہونے کے بعد سوویت فوج تاج بیگ محل کی تیسری منزل تک پہنچ گئی جہاں صدر امین، ان کے بیٹے عبدالرحمان اور محافظ مزاحمت کر رہے تھے۔ ان سب کو مار دیا گیا۔

امین کی جان کیسے گئی، اس بارے میں مختلف تفصیلات ہیں۔ تاہم اسی رات امین کی لاش کو محل سے قالین میں لپیٹ کر باہر لے جایا گیا اور ایک خفیہ قبر میں دفن کر دیا گیا۔

امین کا قتل پرچم دھڑے کی حمایت سے افغانستان پر قبضہ کرنے کے ایک بڑے سوویت منصوبے کا حصہ تھا۔

حفیظ اللہ امین کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟

27 دسمبر کو کیے گئے حملے میں پتمنہ امین اپنے شوہر اور دو بیٹوں سے محروم ہوئیں، جبکہ ان کی بڑی بیٹی شدید زخمی ہوئیں۔ بیٹوں، خاص طور پر 11 سالہ بیٹے خوازک کی ہلاکت ان کے لیے سب سے بڑا صدمہ تھی۔

انھوں نے بتایا کہ خوازک کو پیٹ میں گولی لگی تھی اور وہ ان کی گود میں تھا، جب خلق ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور کابینہ کے وزیر سید محمد گلاب زوئے آئے اور کہا کہ بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی جان بچائی نہ جا سکی۔

گلاب زوئے نے بعد میں کہا کہ گولی لگنے سے بچہ شدید زخمی تھا اور علاج کے دوران فوت ہو گیا۔

خلق ڈیموکریٹک پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد مخالفین کے خلاف کارروائیاں کیں، اور صدر امین پر الزام ہے کہ انھوں نے مخالفین سمیت کئی بے گناہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت صرف تقریباً تین ماہ رہی، لیکن تمام ذمہ داری انھی پر ڈال دی گئی۔

سابق صدر حفیظ اللہ امین ایک غیر ملکی وفد کے ہمراہ
،تصویر کا کیپشنسابق صدر حفیظ اللہ امین ایک غیر ملکی وفد کے ہمراہ

پل چرخی کا قید خانہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد بھی مصیبتوں کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ پتمنہ امین اور ان کے بچے پل چرخی جیل بھیج دیے گئے، جہاں انھوں نے چھ سال قید کاٹی۔

’ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس پر لوہے کا دروازہ نصب تھا۔ اگر کوئی ضرورت ہوتی تو ہم دروازہ کھٹکھٹاتے۔‘

ان کے بیٹے ببری امین نے بتایا کہ ایک موقع پر جیل کے ایک افسر نے ان کی والدہ کو سر پر اینٹ ماری کیونکہ انھوں نے کھڑکیوں پر رکاوٹ لگانے کی مزاحمت کی تھی۔

ڈاکٹر نجیب اللہ کے اقتدار میں آنے کے بعد اس خاندان کو جیل سے نکال کر ایک گھر میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ تین سال تک نگرانی میں رہے۔ بعد ازاں افغانستان میں مجاہدین کے درمیان جنگ کے باعث وہ بھی دیگر لوگوں کی طرح نقل مکانی کر گئے۔

پتمنہ امین نے اپنی زندگی کے 86 ویں سال میں چھ مئی کو وفات پائی۔

اگر افغانستان کی سیاست سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پتمنہ امین کی کہانی صرف ان کی نہیں بلکہ ان ہزاروں بیواؤں کی داستان ہے جو پچھلی نصف صدی کی جنگوں، بغاوتوں اور سیاسی انتقام کے باعث اپنے عزیزوں سے محروم ہوئیں۔

پتمنہ امین کبھی براہ راست سیاست میں شامل نہیں رہیں، لیکن پھر بھی ہزاروں افغان خواتین کی طرح وہ بھی سیاست کا شکار بنیں۔

جیسا کہ انھوں نے خود کہا: ’میرے شوہر گھر میں سیاسی باتیں نہیں کرتے تھے۔ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘