امریکی صدر ٹرمپ کی گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو تنبیہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے معتصابانہ رویے پر انھیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 'تکلیف دہ حدود میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سماجی رابطوں کی ان ویب سائٹس کو 'بہت محتاط' ہونا چاہیے۔

اس سے قبل انھوں نے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل پر 'ٹرمپ نیوز' کی سرچ کے نتائج میں ردوبدل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مزید جانیے

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ضوابط متعارف کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب گوگل کا کہنا ہے کہ اُس کے سرچ انجن کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاسی نظریے کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'گلوگل نے بہت سے لوگوں سے بہت سے فائدے لیے ہیں۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔'

فیس بک اور ٹوئٹر کا نام لیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'اُن کے لیے احتیاط بہتر ہے کیونکہ آپ لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ہزاروں شکایات آ رہی ہیں۔'

انھوں نے شکایات کے ازالے کے لیے ممکنہ اقدامات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کے اقتصادی مشیر نے گوگل کے حوالے سے کہا کہ انتظامیہ اس معاملے پر مختلف ریگولیشنز متعارف کروانے یا 'تحقیقات اور تجزیے' کے بارے میں کرنے پر غور کر رہی ہے۔

’خبروں کو دبا دینا‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دعوے کے برعکس اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ کارروائی کی نوعیت کیا ہو گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرچ انجن کے نتائج کو تبدیل کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ۔

اس قبل صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں گوگل پر منفی خبروں کو ترجیح دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے 'بائیں بازوں کے میڈیا' کے طور پر بیان کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ گوگل پر سرچ کے نتائج میں منفی خبریں نظر آتی ہیں اور یہ قدامت پرست رپورٹنگ کو 'دبایا' جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا 'رپبلکنز اور قدامت پرستوں کے بارے تعصب' رکھتا ہے اور وہ 'ایسا نہیں ہونے دیں گے۔'

ادھر گوگل کا کہنا ہے کہ اُس نے سیاسی نقطہ نظر کی بنیاد پر سرچ کے نتائج تبدیل نہیں کیے ہیں۔

گلوگل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'سرچ کو سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اور ہمارے نتائج سیاسی نظریات اور تعصب کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔'