آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے اغوا کار سے جرمنی میں ملاقات ہو گی‘
عراق میں یزیدی برادری کی ایک نوجوان لڑکی کو دولتِ اسلامیہ نے اغوا کر کے غلامی کے لیے بیچ دیا تھا، اس نے بی بی سی کو اپنے اُن لمحات کے بارے میں بتایا ہے جب اُس کی ملاقات جرمنی میں دولت اسلامیہ کے اُس جنگجو سے ہوئی جس کی قید میں وہ رہی تھی۔
اشواق 14 برس کی تھیں جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شمالی عراق پر دھاوا بول دیا تھا۔
یزیدی ایک مذہبی گروہ ہے جو شمالی عراق کے علاقوں میں صدیوں سے رہتا آ رہا ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے ہزاروں خواتین کو اغوا کر کے جنسی غلام بنایا تھا۔ ان خواتین میں اشواق بھی شامل تھی جسے 100 ڈالر میں ابو ھمام نامی جنگجو کو بیچ دیا گیا۔
اغوا کے دوران انھیں مسلسل ریپ کیا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ وہ تین مہینے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور اپنی والدہ اور ایک بھائی کے ساتھ جرمنی چلی گئیں۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چند مہینے قبل جرمنی میں ایک سپرمارکیٹ کے باہر سڑک پر انھوں نے سنا کہ کوئی اُن کا نام پکار رہا ہے۔
اشواق نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک روز سکول سے واپسی پر ایک گاڑی اُن کے برابر میں آ کر رکی اور وہ سامنے والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ ’اُس نے جرمن زبان میں بات کی اور پوچھا کہ کیا میں اشواق ہوں۔ میں اِس قدر خوفزدہ تھی کہ میں کانپ رہی تھی۔ میں نے کہا نہیں۔‘
اشواق نے بتایا کہ اُس شخص نے کہا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ تم اشواق ہو۔ میں ابو ھمام ہوں۔‘
اشواق کہتی ہیں کہ پھر اُس نے عربی زبان میں بات شروع کر دی اور کہا کہ جھوٹ نہ بولو۔
’میں جانتا ہوں تم کون ہو، کہاں رہتی ہو اور کس کے ساتھ رہتی ہو۔ وہ جرمنی میں میری زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا۔‘
اشواق کہتی ہیں کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اُس شخص سے جرمنی میں اُن کی ملاقات ہو سکتی ہے۔
’میں نے اپنا خاندان اور اپنا ملک چھوڑ کر جرمنی جانے کا فیصلہ اِس لیے کیا تھا کہ میں ماضی کی تکالیف بھول سکوں۔ مجھے یہ توقع بالکل بھی نہیں تھی کہ میرا اغوا کار میرے سامنے آ جائے گا اور اُسے میرے بارے میں سب کچھ پتہ ہو گا۔‘
جرمنی کے حکام کا کہنا ہے کہ اشواق نے پولیس کو پانچ روز کے بعد اِس واقعے کی اطلاع دی تھی۔ اشواق کہتی ہیں کہ انھوں نے تفتیش کاروں کو عراق میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سمیت سب کچھ بتا دیا تھا۔
پولیس نے مشتبہ شخص کا خاکہ تیار کر کے اشواق سے کہا کہ وہ جیسے ہی ابو ھمام دیکھیں فوراً پولیس سے رابطہ کریں۔
اشواق نے بتایا کہ انھوں نے پولیس سے کہا کہ وہ سپر مارکیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھیں۔ لیکن اشواق کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔
’میں نے پورے مہینے انتظار کیا لیکن کوئی خبر نہ آئی۔‘
اشواق نے شمالی عراق واپس جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انھیں یہ خوف تھا کہ اُن کا اغوا کار دوبارہ اُن کے سامنے آ جائے گا۔ اِس کے علاوہ وہ اپنی اُن چار بہنوں سے بھی ملنا چاہتی تھیں جو دولتِ اسلامیہ کی قید سے آزاد ہو چکی تھیں۔ اشواق جرمنی کے قصبے شوے بش گیمونڈ کو چھوڑ گئیں جہاں انھوں نے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
’جب تک آپ اِس سے گزرے نہ ہوں آپ اِس تکلیف کو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ سیدھا آپ کے دل پر جا کر لگتا ہے۔ جب کوئی لڑکی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ریپ ہوئی ہو اور دوبارہ اُس شخص کو دیکھے، آپ تصور نہیں کر سکتے کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔‘
جب پولیس نے مزید تفتیش کے سلسلے میں اشواق سے دوبارہ رابطہ کیا تو وہ عراق جا چکی تھیں۔
لیکن جرمنی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔
برلن میں ہاور ہیلپ نامی تنظیم کی ترجمان ڈیوزن ٹیکال کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے کئی کیسز کے بارے میں سنا ہے جن میں یزیدی تارکینِ وطن خواتین نے جرمنی میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پہچانا ہے۔
اشواق کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی کئی یزیدی لڑکیوں سے ایسی باتیں سنی ہیں۔ تاہم ایسے کئی کیسز کی اطلاع پولیس کو نہیں دی گئی ہے۔
اشواق اب اپنے خاندان کے ساتھ کردستان میں ایک کیمپ میں رہتی ہیں۔ وہ اب بھی اپنی تعلیم مکمل کرنا اور عراق سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہیں۔
اُن کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اب بھی دولت اسلامیہ کے لوگوں سے خطرہ ہے۔
تہھم جرمنی میں اشواق جس تجربے سے گزری ہیں اُس کے بعد وہ دوبارہ وہاں نہیں جانا چاہتیں۔ ’اگر پوری دنیا بھی تباہ ہو جائے تو میں جرمنی نہیں جاوں گی۔‘
یزیدی برادری کے کئی دوسرے افراد کی طرح اُن کا خاندان بھی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اغوا ہونے والی خواتین کے لیے ایک خصوصی پروگرام کے تحت آسٹریلیا ہجرت کرنے کے لیے درخواست جمع کرا رہا ہے۔