جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں، ایران پر پابندیاں لگیں گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

،ویڈیو کیپشنایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 2015 میں ہونے والے ایرانی جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے اور اب ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ اس جوہری معاہدے کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو محفوظ رکھنا تھا لیکن اس معاہدے نے ایران کو یورینئیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'تباہ کن' ایران جوہری معاہدہ امریکہ کے لیے باعث ’شرمندگی‘ ہے۔

ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ ایران کو عدم استحکام پھیلانے، بشمول دہشت گردی کی معاونت جیسی کارروائیوں سے نہیں روکتا۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا؟

انھوں نے کہا : ’یہ واضح ہے کہ ہم اس بوسیدہ اور تباہ کن معاہدے کے تحت ایرانی جوہری بم کو نہیں روک سکتے۔‘

’ایران معاہدہ سرے سے ہی ناقص ہے۔ اگر ہم کچھ نہیں کرتے تو ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس لیے میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ امریکہ ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے۔‘

پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم سخت معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔ کوئی بھی ملک جو ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے مقاصد میں مدد کرے گا، اسے بھی امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی معاشی پابندیاں دوبارہ سے عائد کریں گے۔ تاہم امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ کی جائیں گی جبکہ دیگر پابندیوں کا نافذ 90 دن کے بعد ہو گا۔

ایران
،تصویر کا کیپشنجوہری معاہدے میں پیدا ہونے والے کسی تنازع کا طریقہ کار

امریکی صدر کے اعلان پر عالمی ردعمل

ایران جوہری معاہدے میں شامل امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے اس امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’فرانس جرمنی اور برطانیہ کو اس امریکی فیصلے سے ’مایوسی‘ ہوئی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ ’افسوسناک‘ ہے۔ انھوں نے فرانس اور جرمنی کے ساتھ مل کر یہ معاہدہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ادھر روس نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’روس کو امریکی صدر کے اس فیصلے پر شدید مایوسی ہوئی ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔‘

واضح رہے کہ یورپی ممالک کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدہ بہترین طریقہ ہے جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے فیصلے کی ’قدر‘ کرتا ہے۔

امریکہ میں سعودی سفیر نے بھی کہا ہے کہ ’سعودی عرب امریکی صدر کی جانب سے لیے جانے والے فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہمیں ہمیشہ سے ہی ایران کی خطے میں دہشت گردی کی حمایت، بیلسٹک میزائل پروگرام پر خدشات تھے۔‘

جوہری معاہدہ کیا تھا؟

جوہری معاہدہ

،تصویر کا ذریعہAFP

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

  • ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا۔
  • آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔
  • جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائےگی۔
  • ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
  • قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔
  • ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔

صدر ٹرمپ معاہدے کے خلاف کیوں؟

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

صدر ٹرمپ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنی جوہری طاقت پر کام کو محدود کرنا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر لگائی گئیں پابندیاں نرم کر دی گئیں۔

صدر ٹرمپ ماضی میں اس معاہدے کو ’تباہی‘ اور ’پاگل پن‘ قرار دیے چکے ہیں اورانھوں نے دو بار کانگریس کو اس بات کی توثیق کرنے سے انکار کیا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کی تعمیل کے حوالے سے کانگریس کو وضاحت دینے کا مطالبہ مسترد کر چکے ہیں لیکن تاحال انھوں نے پابندی بحال کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔

انھوں نے جنوری 2018 میں خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس اور یورپی ممالک نے اس معاہدے کی تباہ کن خامیوں کو دور نہ کیا تو 12 مئی کو امریکہ معاہدے سے نکل جائے گا۔

ان کی شکایت ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو ایک محدود مدت کے لیے جوہری سرگرمیوں سے روکتا ہے تاہم اس نے بیلیسٹک میزائلز پر کام نہیں روکا۔ اور اس کی وجہ سے ایران کو ایک کھرب ڈالر ملے جو اس نے مشرقِ وسطی میں ہتھیاروں کے ترسیل ، دہشت اور قبضہ پھیلانے کے لیے استعمال کیے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہAFP

یورپی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر راضی کرنے کی کوششیں کیں کہ معاہدے کو ختم نہ کیا جائے اور جو خدشات ہیں ان کو ایک اور معاہدے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق یورپی سفارتکار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو راضی کرانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیی کہ وہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان شام چھ بجے جی ایم ٹی پر کریں گے۔

ایران کا کیا کہنا تھا؟

روحانی

،تصویر کا ذریعہAFP

ایران جس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کے خیال میں ایران کا جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر نے دوبارہ پابندی عائد کی تو اس کے ’خطرناک نتائج‘ ہوں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں یورینیئم کی افزودگی بڑھا دی جائے گی۔

ایران کے وزیرا خارجہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو ختم کرتا ہے تو اسے ’سنگین صورتحال‘ میں تحران کے جوہری معاہدے کو جبراً تسلیم کرنا پڑے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس بین الااقوامی کامیابی (جوہری معاہدے) کو تباہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں تو انھیں یقینی طور پر ایرانی عوام کے حقوق کو بدترین صورتحال میں جبراً تسلیم کرنا پڑے گا۔‘