آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران نے شام سے حملہ کیا تو یہ شامی صدر اور ان کی حکومت کا اختتام ہوگا: اسرائیلی وزیر
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے وزیر کا کہنا ہے کہ اگر شامی صدر بشارالاسد نے ایران کو شام سے اسرائیل پر حملہ کرنے کی اجازت دی تو وہ ان کا تختہ الٹ دیں گے۔
یووال سٹائنٹز نے خبرادار کیا کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو صدر بشار الاسد کو ’معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا اور ان کی حکومت کا اختتام ہوگا۔‘
ان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل حکام ایران یا اس کے حمایتیوں کی جانب سے میزائیل حملوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی شام میں اس کی تنصیبات پر فضائی حملوں کا بدلہ لینے کا کہہ چکا ہے۔ ان فضائی حملوں کو اسرائیل کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے نہ تو ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور نہ انھیں مسترد کیا ہے، لیکن اس نے کہا ہے کہ وہ ’شام میں کسی قسم کی بھی ایرانی فوج کی مورچہ بندی کو روکے گا۔‘
واضح رہے کہ ایران گذشتہ سات سالہ خانہ جنگی کے دوران شام کی مدد کرتا رہا ہے۔ اس نے وہاں سینکڑوں فوجی مشیروں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ملیشیا بھی تعینات کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو ایک اسرائیلی اخبار کو دیے انٹرویو میں یووال سٹائنٹز نے کہا کہ ’اسرائیل نے بشار الاسد کی جانب سے ہمارے اور اپنے لوگوں کے خلاف جرائم کے باوجود اسرائیل نے تاحال تنازع میں مداخلت نہیں کی ہے۔‘
تاہم توانائی کے وزیر نے خبرادار کیا کہ ’اگر اسد نے شام میں فوجی اڈہ بنانے اور ہم پر حملہ کرنے کی ایران کو اجازت دی تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور وہ مزید شام کے حکمران نہیں رہیں گے۔‘
بی بی سی کے مشرق وسطی کے تجزیہ کار ایلن جانسن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر کی یہ تنبیہ اس بات کو واٰضح کرنا ہے کہ اسرائیل شام کی سرزمین پر سے اس پر ہونے والے کسی بھی ایرانی حملے کے لیے صدر بشارالاسد کو ذمہ دار ٹھرائے گا۔