آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’غیر یقینی کی صورتحال سے میں پاگل ہو رہا ہوں‘
ایک شامی شخص کو ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ملائیشیا کے ایئر پورٹ میں پھنسے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔
حسن الکونتر کی مشکل اس وقت منظر عام پر آئی جب انھوں نے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنی ویڈیوز پوسٹ کرنی شروع کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 میں شام میں جب جنگ کا آغاز ہوا تو ان کا ملازمت کا پرمٹ منسوخ کر دیا گیا اور انھیں متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کر کے ملائیشیا بھیج دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ ملائیشیا میں داخل نہیں ہو سکتے اور کمبوڈیا اور ایکواڈور جانے کی کوششیں بھی بےسود رہی ہیں۔
اس حوالے سے جب صحافیوں نے ایئر پورٹ اور ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن سے رابطہ کیا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واٹس ایپ کال پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پریشان اور فکرمند حسن نے کہا کہ ان کو اب یاد بھی نہیں ہے کہ وہ اس حالت میں کتنے روز سے ہیں۔
’مجھے مدد چاہیے۔ میں اس ایئرپورٹ پر مزید نہیں رہ سکتا اور اس غیر یقینی صورتحال سے میں پاگل ہو رہا ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے جیسے میری زندگی نئی پستیوں کا شکار ہے۔‘
حسن نے مزید کہا کہ کافی دنوں سے وہ نہائے بھی نہیں ہیں اور ان کے پاس صاف کپڑے بھی ختم ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا ’میں متحدہ عرب امارات ملازمت تلاش کرنے گیا لیکن شام میں خانہ جنگی کے باعث میرا کام کرنے کا پرمٹ بھی منسوخ کر دیا گیا اور میری نوکری بھی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے 2017 میں ان کو ملائیشیا میں ہولڈنگ سینٹر ڈی پورٹ کیا کیونکہ ملائیشیا ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو شامیوں کو ایئرپورٹ پر ویزہ دیتا ہے۔
حسن کو تین ماہ کا سیاحتی ویزہ دیا گیا لیکن وہ اس سے بہتر حل چاہتے تھے۔
’میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایکواڈور جاؤں تاکہ میں اتنی رقم بچا سکوں کہ ٹرکش ایئرلائنز کی ٹکٹ لے سکوں لیکن کچھ وجوہات کے باعث مجھے جہاز پر چڑھنے نہیں دیا گیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں اجازت سے زیادہ رہ جانے کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا اور ملائیشیا میں ان کو بلیک لسٹ کر دیا گیا اور اب وہ ایئرپورٹ سے باہر نکل نہیں سکتے۔
ملائیشیا میں دوبارہ اجازت سے زیادہ رہنے سے بچنے کے لیے حسن کمبوڈیا گئے لیکن ان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ ’مجھے ملائیشیا میں غیر قانونی قرار دیا گیا اس لیے میں کمبوڈیا گیا لیکن وہاں پر میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا۔‘
کمبوڈیا کے امیگریشن حکام نے مقامی اخبار کو بتایا کہ شامیوں کو ایئرپورٹ پر ویزہ مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ حکومتی شرائط پر پورا اتریں۔
’ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ان کا کمبوڈیا میں آنے کا مقصد کیا ہے۔‘
حسن کا کہنا ہے کہ سات مارچ کو ان کو واپس کوالالمپور بھیج دیا گیا اور تب سے وہ ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایئرپورٹ کسٹمر سروس کے حکام اور اقوام متحدہ کے حکام ان سے رابطے میں ہیں۔
’حکام میرا انٹرویو لے رہے ہیں اور میں نے چند رپورٹیں بھری ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں۔ مجھے کوئی مشورہ دینے والا نہیں ہے کہ میں کہاں جاؤں۔ مجھے مدد کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے بھی بدترین وقت ابھی آنا ہے۔‘
حسن نے بتایا کہ انھوں نے شام 2006 میں چھوڑا کیونکہ وہ فوج میں لازمی سروس نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ 2008 میں ایک بار خاندان والوں سے ملنے گئے تھے کیونکہ اب بھی ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہیں۔
’میں انسان ہوں اور میں جنگ میں حصہ لینا صحیح نہیں سمجھتا۔ میں قتل کرنے والی مشین نہیں ہوں اور میں شام کو تباہ کرنے کا حصہ نہیں بن سکتا۔ میں اپنے ہاتھ خون سے رنگنا نہیں چاہتا۔ جنگ کبھی بھی حل نہیں ہوتا لیکن بدقسمتی سے جہاں میں اس وقت ہوں اس کی قیمت ادا کر رہا ہوں۔‘
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ان کو اس کیس کا علم ہے اور وہ اس شخص اور حکام سے رابطے میں ہے۔