آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وکیل کے دفتر پر چھاپہ ٹرمپ کے لیے کتنا خطرناک
- مصنف, انتھونی زرکر
- عہدہ, شمالی امریکہ رپورٹر
امریکی تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل اور قریبی دوست مائیکل کوہن کے آفس، گھر اور ہوٹل کے کمرے پر چھاپہ مارا ہے۔
اور اب حالات ایسے ہیں کہ ان کی زندگی مشکلات میں گھر گئی ہے اور اس کا کوئی واضح حل نظر نہیں آ رہا۔
حالیہ برسوں کی امریکی صدارتی تاریخ میں ایسے مثالیں نہیں نظر آتیں اور ایف بی آئی کے اس فیصلے پر صدر ٹرمپ کا سخت رد عمل سامنے آیا جس سے ان کی جھنجھلاہٹ واضح ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بارے میں پریشان ہیں۔
اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے
اکاون سالہ مائیکل کوہن نیو یارک کے رہائشی ہیں اور انھوں نے وکالت کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے لیکن صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات روایتی موکل وکیل کے تعلقات جیسے نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ صدر ٹرمپ کو وکالت کے حوالے سے مشورے دیتے تو ضرور تھے لیکن ساتھ ساتھ وہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے بیرون ملک کاروباری معاملات طے کرنے کے لیے مذاکرات میں مرکزی شخصیت ہوتے تھے۔
صدر ٹرمپ کے ناقدین کو قانونی نوٹس لکھنے والے بھی مائیکل کوہن ہی تھے اور کم از کم پورن سٹار سٹارمی ڈینئیلز کے معاملے میں صدر ٹرمپ کے بارے خفت آمیز معلومات چھپانے کے ذمے دار بھی یہی تھے۔
سال 2011 میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا: 'لوگ کہتے ہیں میں صدر ٹرمپ کا پٹ بل (خونخوار نسل کا کتا) ہوں، میں ان کا دایاں ہاتھ ہوں، میں ان کا وفادار ملازم ہوں اور انھیں بہت پسند کرتا ہوں۔'
دوسرے لفظوں میں دیکھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ مائیکل کوہن صدر ٹرمپ کے تجارتی اور کاروباری معاملات میں ایک دہائی سے ان کے قریبی ساتھی ہیں۔
اور اگر مائیکل کوہن قانونی تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں تو ان کی مدد سے صدر ٹرمپ کے کاروبار کی معلومات کی بند کھڑکی کھل سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے روس میں پراپرٹی کے معاملات پر سپیشل پراسیکیوٹر رابرٹ میولر اور ان کی ٹیم کی گہری نظر اور دلچسپی ہے اور مائیکل کوہن اس کا حصہ تھے اور برطانوی جاسوس کرسٹوفر سٹیل کی دستاویز میں بھی ان کا کافی ذکر تھا۔
اور اگر یہ تفتیش کہیں آگے نہ بھی بڑھے، تب بھی سرکاری ایجنٹس کا حاضر صدر کے وکیل سے تفتیش کرنا ایک نہایت حیران کن بات ہوگی۔ لیکن اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مائیکل کوہن کے پاس سے کیا مواد ملا ہے۔
سرکاری اہلکار اپنی تفتیش میں مائیکل کوہن سے متعلق دستاویزات جمع کر رہے ہیں جس میں ان کے ٹیکس ریکارڈ اور اس سے متعلقہ مواد، کاروباری سرگرمیاں اور صدر ٹرمپ سے افیئر رکھنے والی پورن سٹار سٹارمی ڈینئیلز کو دی جانے والی ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم شامل ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہو کیا رہا ہے، بلکہ اس سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ تفتیش کر کون رہا ہے۔
میڈیا کی خبروں کے مطابق اس تفتیش کو شروع کرنے کی وجہ رابرٹ میولر کی ٹیم کو ملنے والی معلومات تھیں لیکن ان کے دفتر نے خود اس حوالے سے تفتیش نہیں کی۔ مائیکل کوہن کے دفتر پر چھاپہ مارنے کے لیے امریکہ کے ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزن سٹائین کہا کہ معاملہ امریکی اٹارنی جنرل تک پہنچایا جائے جو نیو یارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کو چھاپہ مارنے کا حکم دے گی۔
مائیکل کوہن نے کہا ہے کہ انھوں نے سٹارمی ڈینئیلز کو اکتوبر 2016 میں 130000 ڈالر اپنی جیب سے ادا کیے تاکہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات پر خاموش رہیں۔
اگر یہ ادائیگی انتخابی مہم کی فنڈنگ میں شمار کی جائی گی تو اس صورت میں خدشہ ہے کہ سرکاری طور پر پیسوں کی تفصیلات مکمل طور پر ظاہر نہ کرنے کی وجہ ان پر مقدمہ ہو سکتا ہے۔
یہ بہت خاص نوعیت کی تفتیش ہے جس کے لیے جسٹس ڈپارٹمنٹ کے اعلی ترین عہدےداران کی جانب سے اس کی منظوری دی گئی اور شامل تفتیش کاروں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وکیل کی اپنے موکل کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو خفیہ رکھا جائے۔
شاید یہی بات صدر ٹرمپ کے دماغ پر تھی جب انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسی بارے میں شکایت کی کہ 'وکیل اور موکل کے رشتے کا تقدس ختم ہو گیا ہے۔'
لیکن کیا یہ تفتیش کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟
اپنے فوجی مشیروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے وکیل مائیکل کوہن کو 'اچھا انسان' قرار دیا اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مائیکل کوہن نے خبر رساں ادارے سی این این کو بتایا کہ ایف بی آئی کے ایجنٹ کا رویہ 'بہت پیشہ ور اور مہذب' تھا۔
صدر ٹرمپ کے خلاف روسی تعلقات کے حوالے سے تفتیش پہلے سے ہی جاری ہے اور یہ نئی معلومات ان کے لیے اور ان کے قریبی رفقا کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔