آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
درد کش ادویات کا استعمال منشیات کے طور پر کیوں ہوتا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں منشیات کی روک تھام کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن یہ کون سی منشیات ہیں اور ان سے کیا مسائل درپش ہیں۔
اوپایئڈ یا افیون جیسی مسکن ادویات کیا ہیں؟
افیون جیسی مسکن ادویات منشیات کے زمرے میں آتی ہیں اور اس گروپ میں افیون سے حاصل کردہ سکون بخش دوا کوڈین سے لے کر ہیروئن جیسی غیر قانونی منشیات بھی شامل ہیں۔
افیون جیسی مسکن ادویات ڈاکٹر نسخے پر حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان کا عام استعمال درد کش دوائی کے طور پر ہوتا ہے۔
یہ ادویات دماغ کے سیلز پر اثر انداز ہو کر ایسے سگنلز جاری کرتی ہیں جو درد کے احساس کو روک دیتی ہیں اور اس کے ساتھ خوشی یا سرور کے احساسات کو بڑھا دیتی ہیں۔
اس گروپ میں شامل علاج کے لیے استعمال ہونے والی دافع درد ادویات عام طور پر ڈاکٹر سے نسخے کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں یہ دوائیں کون کون سے ہیں؟
- مارفین morphine
- ٹریماڈول tramadol
- میتھاڈون methadone
- ڈایا مارفین diamorphine
- فینٹال fentanyl
- الفینٹال alfentanil
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ادویات کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں
اوپایئڈ یا افیون جیسی مسکن ادویات عام طور پر درمیانی درد سے شدید درد کے صورت میں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
ان ادویات کے استعمال کا مقصد درد کو عارضی طور پر روکنا ہے اور ممعول میں استعمال ہونے والی درد کش اودیات پیراسٹامول، آئی بروفین اور اسپرین کی طرح کام نہیں کرتی ہیں۔
یہ ادویات مثال کے طور پر بہت شدید درد کی صورت میں استعمال ہوتی ہیں جیسا کہ کسی سرجری کی صورت میں یا کینسر کے مریضوں یا ایسے افراد جو زندگی کے آخری ایّام میں ہوتے ہیں۔
یہ ادویات خطرناک کیوں ہیں؟
اوپایئڈ کا استعمال اچھے مقصد کے لیے ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ان ادویات کے استعمال کی لت بھی لگ سکتی ہے۔
ان ادویات کے استعمال سے سرور کے احساس کی وجہ سے لوگ ان کے استعمال کو جاری رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے نفسیاتی طور پر ان ادویات کے استعمال کے عادی ہو سکتے ہیں۔
کم خوراک کھانے کی صورت میں لوگوں کو غنودگی ہو سکتی ہے اور زیادہ استعمال خوارک لینے کی صورت میں یہ آپ کے سانس کو آہستہ کر سکتی ہیں اور ان کے دل کی دھڑکن بھی کم ہو جاتی ہے اور ان دونوں علامتوں کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
اوپایئڈ ادویات کو شراب کے ساتھ لینے کی صورت میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ ادویات امریکہ میں کیوں بڑی مقدار میں ڈاکٹری نسخے پر لی جاتی ہیں؟
کئی یورپی ممالک کے برعکس امریکہ میں عام لوگوں کو صحت کی مفت سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور یہاں لوگوں کو خود اپنی طبی انشورنس کرانا پڑتی ہے اس میں عام طور پر ملازمت دینے والے یا حکومت کے ذریعے یہ انشورنس حاصل کی جاتی ہے۔
ویسٹ ورجینا یونیورسٹی کے پروفیسر جیوڈیتھ فینبرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اوپایئڈ ادویات آسانی سے ڈاکٹری نسخے پر حاصل کی جا سکتی ہیں اور بہت سارے غریب لوگوں کی انشورنس میں انھیں سوائے گولی کے کچھ نہیں ملتا ہے۔
’آپ کے پاس 45 سالہ مریض ہے اور اس کو کمر کے نچلے حصے میں درد ہے اور تشخیص ہوتی ہے کہ اسے پٹھوں کے سکڑنے کا مرض ہے اور اس صورت میں تھراپی بہترین علاج ہے لیکن اس علاج کے لیے رقم ادا کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس صورت میں ڈاکٹر آپ کو نسخہ لکھ کر دینے پر تیار ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں منشیات کی روک تھام کے لیے منشیات فروشوں کو سزائے موت دینے کی تجویز دی تھی۔
ریاست نیو ہیمشائر کے شہر مانچسٹر میں خطاب کے دوران انھوں نے علاج معالجے میں عدم فراہمی اور ضرورت سے زائد نسخوں کی فروخت کے حوالے سے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔
طبی حکام کے مطابق امریکہ میں سنہ2016 میں 63,600 افراد افیون کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔
امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق 24 لاکھ افراد افیون یا اس سے ملتی جلتی منشیات کے عادی ہیں جن میں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ درد کش ادویات اور ہیروئین بھی شامل ہے۔