'میں چاہتی ہوں 20 برس بعد تم کو یہ معلوم ہو'

ایک پر امید نو سالہ لڑکی کا خط

،تصویر کا ذریعہTo Future Women

،تصویر کا کیپشنایک پر امید نو سالہ لڑکی کا خط

’میں امید کرتی ہوں کہ ایک دن خواتین کے ساتھ مردوں جیسا سلوک ہو اور انھیں مردوں جتنی تنخواہ دی جائے گی۔‘

’میں یہ بھی امید کرتی ہوں کہ ایک دن میں امریکہ کہ صدر بنوں، بھلے ایسا کرنے والی میں پہلی خاتون ہی کیوں نا ہوں۔‘

یہ الفاط ایک نو سالہ لڑکی کے خط میں لکھے ہیں۔ ایک بین الاقوامی پروجیکٹ کے تحت سنہ 2037 کی خواتین کے نام لکھے گئے سینکڑوں خطوط میں یہ خط بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان سے کہا گیا تھا کہ وہ آنے والی نسلوں کی خواتین کے لیے اپنی امیدوں کا اظہار خط لکھ کر کریں۔

جورجیا سیکسلبی ایک فنکارہ ہیں اور یہ انہی کا پروجیکٹ ہے۔ ان کے اس پروجیکٹ کی میزبانی واشنگٹن کا ’دا فلپ کلیکشن ایٹ دا نیچرل ہسٹری میوزیم‘ کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے خلاف خواتین کے بین الاقوامی مارچ کے ایک برس بعد اس پروجیکٹ کا آغاز 21 جنوری کو ہوا تھا۔

خوط اک پروجیکٹ

،تصویر کا ذریعہTo Future Women

،تصویر کا کیپشنایک سینتیس سالہ خاتون کا خط

جورجیا سیکسلبی نے بتایا کہ میں نے خطوط کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ خط لکھنا خیالات کی شفاف عکاسی کو جنم دیتا ہے۔

’ہاتھ سے خط لکھنے کا مطلب ہے آپ ایک جگہ بیٹھ کر یہ کام کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل سکرین پر کام کرنے سے مختلف ہے۔ خط لکھنے کا رواج نجی اور متبادل تاریخ کے اظہار سے منسلک ہے۔ اور اس میں دنیا بھر سے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔‘

line
بی بی سی 100 ویمین

نو برس کی بچی کے خط کا جواب اس کے والدین اور دادا دادی نے بھی دیا ہے۔

ان کے دادا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’موجودہ دور میں خواتین اپنے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس خط کے لکھے جانے کے 20 برس کے اندر وہ بہادر آوازیں ناانصافی کو بے نقاب کر چکی ہوں گی اور تبدیلی لا چکی ہوں گی۔‘

انھوں نے اپنی پوتی کے خط کے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ تم آگے بھی اس اہم تحریک کا حصہ رہو گی۔‘

بچی کی دادی نے لکھا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ تم اپنی قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکو گی، بجائے اس سماج میں ہونے کے جو مردوں کی مدد کرتا ہے اور خواتین کو دباتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں خود پر پورا اعتماد ہو گا۔‘

انہوں نے آگے لکھا ہے کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ تم ایک دن صدر بنو اور میں تمہیں ووٹ دوں گی۔‘

جورجیا سیکسلبائے

،تصویر کا ذریعہJoe Gibson

،تصویر کا کیپشنجورجیا سیکسیلبائے کہتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں کہ مستقبل کی خواتین کو معلوم ہو کہ ہمیں آنے والی نسلوں کی خواتین کا خیال تھا

خطوط کو جمع کرنے کا یہ سلسلہ جولائی تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد ان تمام خطوط کو سنہ 2037 تک کے لیے ٹائم کیپسول والے ریکارڈ میں محفوظ کر لیا جائے گا۔ اس وقت خواتین کے مارچ کی 20 ویں سالگرہ ہو گی۔

جورجیا امریکہ میں کئی ایجینسیوں کی مدد سے ان خطوط کے ترجمے پر بھی کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس پروجیکٹ میں شامل افراد کی تعداد سے انہیں احساس ہو رہا ہے کہ خواتین کی اس تحریک کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔‘

انھوں نے ایک ایسے پروجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا جس میں اس تحریک کے عمل کو محفوظ کیا جا سکے اور جس میں لوگوں کے نجی سطح پر جڑے ہونے کے باوجود اس کی وسعت شامل ہو۔

ایک تیس سالہ خاتون کا خط
،تصویر کا کیپشنایک تیس سالہ خاتون کا خط

خواتین کی برابری کے مطالبے کی مہم نئی نہیں ہے۔ جورجیا کے مطابق برطانیہ میں سفراجیٹ تحریک کے 100 برس کا مکمل ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں کسی نے نہیں بتایا کہ سفراجیٹ خواتین کون تھیں، وہ تحریک کیسے شروع ہوئی اور کون اسے چلا رہا تھا۔ اس لیے وہ یہ یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ مستقبل کے 20 برسوں میں ان کے مرنے کے بعد بھی موجود رہنے والے عجائب گھر اس تحریک کے گواہ رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خطوط کا پروجیکٹ

،تصویر کا ذریعہJoe Gibson

جورجیا نے ابھی تک خود اپنی جانب سے کوئی خط نہیں لکھا ہے۔ وہ اپنا خط ان تمام خطوط کو محفوظ کرنے سے پہلے لکھیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سی لڑکیوں نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر خط لکھے ہیں۔ ایک خاص موضوع جو زیادہ تر خطوط میں سامنے آ رہا ہے وہ ہے خواتین رہنماؤں کا ہونا۔

ایک 26 سالہ خاتون نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انھیں گذشتہ برس ہی یہ احساس ہوا کہ وہ ایک فیمینسٹ ہیں۔ انھیں یہ لفظ ہمیشہ بہت بھاری بھرکم معلوم ہوتا تھا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’اب مجھے سمجھ آگیا ہے کہ اس کا مطلب خود اپنے اور اپنی لاکھوں بہنوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔‘

خطوط کا پروجیکٹ

،تصویر کا ذریعہJoe Gibson

،تصویر کا کیپشنخطوط کا پروجیکٹ

ٹائم کیپسول میں آرکائیو یا محفوظ کی جانے والی چیزیں ایک مقررہ عرصے تک کھولی نہیں جا سکتی ہیں۔

جورجیا نے ان خطوط کے لیے 20 برس کے ٹائم کیپسول کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس فیصلے کی خاص وجہ ہے۔

’کسی تبدیلی کے لیے یہ ایک طویل عرصہ ہے۔ لیکن ہم جو لکھ رہے ہیں اسے دوبارہ پڑھنے یا سمجھنے کے لیے یہ عرصہ کم ہے۔ ہم اس تحریک کے نتائج کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔‘

جورجیا کہتی ہیں کہ ’آج ہم جو بیج بو رے ہیں آنے والی نسلوں کی خواتین اس کا پھل کھا سکیں گی۔‘