شام میں روس کا فوجی طیارہ گر کر تباہ، 32 ہلاک

شام میں روس کے ایک فوجی طیارہ حميميم کے فوجی اڈے پر گر پر تباہ ہو گیا جہاں سے روس شام میں ہونے والی تمام فوجی کاررائیاں کرتا ہے۔

طیارے میں چھبیس مسافر اور عملے کے چھ افراد سوار تھے جو تمام اس حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ طیارہ شام کے ساحلی شہر لتاکیا میں حمیمیم کے فوجی اڈے پر گر کر تباہ ہوا ہے۔

وزارت دفاع نے کہا ہے کہ طیارے پر فائرنگ نہیں ہوئی ہے اور ابتدائی معلومات سے لگتا ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا ہے۔

تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سات جنوری کو روس نے دعوی کیا تھا کہ اس نے حمیمیم کے ہوائی اڈے پر ڈرون کی مدد سے حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

اس سے پہلے شامی باغیوں نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے حمیمیم کے ہوائی اڈے پر مارٹر حملہ کیا ہے جس میں روس کے جنگی طیاروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

حمیمیم کی اہمیت کیا ہے

حمیمیم کا ہوائی اڈہ روس کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جب شام کے صدر بشار الاسد کی پوزیشن کمزور ہونے لگی تو روس نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔

روس نے بشار الاسد مخالف باغیوں کے خلاف تمام فوجی کارروائیوں کے لیے حمیمیم کے ہوائی اڈے کو استعمال کیا ہے۔

روس نے شام میں فوجی کارروائیوں کا آغاز 2015 میں کیا تھا۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے فوجی کارروائی کا فیصلہ صدر بشار الاسد کی درخواست پر کیا ہے۔

شام کی جنگ روس کا نقصان

  • نومبر2015 میں ترکی کے جنگی طیاروں نے روس کے جنگی طیارے سخوئی 24 کو مار گرایا۔دسمبر 2016 میں روس کا مسافر بردار بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں 92 لوگ مارے گئے۔
  • دسمبر 2017 میں حمیمیم کے ہوائی اڈے پر ہونے والی شیلنگ سے کئی طیاروں کو نقصان پہنچا۔
  • فرروی 2018: باغیوں نے ادلیب صوبے میں روس کا سخوئی 25 طیارہ مار گرانے کا دعوی کیا۔ پائلٹ طیارے سے چھلانگ لگانےمیں کامیاب رہا لیکن زمین پر ہونے والی لڑائی میں مارا گیا۔