آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سب مذاقاً کہا کرتے تھے کہ کروز ایک دن سکول میں فائرنگ کرے گا ‘
فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ کرنے والے 19 سالہ نکولس کروز کے بارے میں طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کو دھمکیاں دیتے تھے، اس لیے انھیں سکول سے نکال دیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کروز کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سکول سے نکالا گیا تھا۔ ان کے بارے میں کئی لوگوں نے شکایات کی تھیں۔
ایک طالب علم نے مقامی ٹیلی وژن کو بتایا کہ تقریباً ہر طالب علم کو اندازہ تھا کہ کروز حملہ کرے گا۔ ’سب مذاقاً کہا کرتے تھے کہ کروز ایک دن سکول میں فائرنگ کرے گا۔ ‘
اسی بارے میں
18 سالہ چیڈ ولیم نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کروز بندوقوں کا شوقین تھا اور سکول سے نکالے جانے سے پہلے وہ اکثر بلاوجہ فائر الارم بجا دیا کرتا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا: ’وہ ایک طرح سے دھتکارا ہوا تھا۔ اس کا کوئی دوست بھی نہیں تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاضی کے استاد جِم گارڈ نے بھی اسی قسم کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدتمیزی کی وجہ سے بدنام تھے۔
انھوں نے اخبار میامی ہیرلڈ کو بتایا کہ ’گذشتہ برس ان کی طرف سے دوسرے طالب علموں کو دھمکیاں دینے کی شکایت ملی تھیں اسے لیے انھیں نکال دیا گیا تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اساتذہ کو ایک ای میل کے ذریعے کروز کی دھمکیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔
ایک طالب علم میتھیو واکر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ کروز سوشل میڈیا پر ہتھیاروں کی تصاویر پوسٹ کیا کرتے تھے۔
ان کے بقول ’ان کی تقریباً ہر پوسٹ ہتھیاروں کے بارے میں ہوتی تھی۔‘
ان کے انسٹا گرام پر دو اکاؤنٹس تھے جنھیں بعد میں ختم کر دیا گیا۔ ان پر زیادہ تر بندوقوں اور چاقوؤں کی تصاویر تھیں۔
ان میں سے ایک تصویر میں گولیوں سے بھرا صندوق اور ایک میں بستر پر بکھری رائفلیں موجود ہیں۔
کئی تصاویر میں ایک نقاب پوش شخص ہاتھ میں چاقو لیے کیمرے کو دکھا رہا ہے۔
پولیس نے کروز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا اور انھیں کافی پریشان کن قرار دیا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کروز کے ایک سے زیادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان پر اسلحے کی تصاویر کے باوجود کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملا کہ وہ سکول پر حملہ کرنے والے ہیں۔