امریکی صدر ٹرمپ کی شارکس سے نفرت سے خیراتی اداروں کا فائدہ

شارک مچھلیوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ نفرت کی خبر سامنے آنے کے بعد شارکس کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ ان کی امداد میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر کی اس آبی حیات سے ’نفرت‘ کی خبر گذشتہ ہفتے سابق پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کے ایک انٹرویو میں سامنے آئی تھی۔

بظاہر ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ وہ شارکس کے تحفظ کے خیراتی اداروں کو کبھی پیسے نہیں دیں گے اور یہ کہا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ سب شارکس مر جائیں‘۔

یہ بھی پڑھیں

شارکس کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ بات سامنے آنے کے بعد سے ان کو ملنے والی امدادی رقوم میں اضافہ ہوا ہے۔

اٹلانٹک وائٹ شارک کنزروینسی کی چیف ایگزیکٹو سنتھیا وِلگرن کا کہنا ہے کہ 'ایک ایسے جانور کے لیے پیسے اکھٹے کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے کہ جس سے بہت سے لوگ ڈرتے ہوں'۔

ان کا مزید کہنا تھا 'وہ کہانی شائع ہونے کے بعد سے ہمیں ٹرمپ کے نام پر چندہ موصول ہو رہا ہے'

نیوز ویک میگزین کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر میکسیکو کے ساحل پر دیکھی جانے والی ایک تیرہ فٹ کی ایک سفید مادہ شارک کو ایک شخص نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر گود لیا ہے۔

برطانوی خیراتی ادارے شارک ٹرسٹ کا بھی یہ کہنا ہے کہ انھیں ملنے والے چندے میں 'نمایاں' اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چندے کے ساتھ 'جذباتی پیغامات' موصول ہو رہے ہیں جو کہ قابل اشاعت نہیں ہیں۔

امدادی رقم میں اضافہ گذشتہ جمعے کو چھپنے والے اس انٹرویو کے بعد ہوا ہے جو سابق پورن سٹار سٹورمی ڈینئلز نے سنہ 2011 میں ’اِن ٹچ وویکلی‘ کو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ افیئر تھا جو سنہ 2006 میں شروع ہوا تھا۔

انٹرویو میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈسکوری چینل پر شارک وویک نامی پروگرام دیکھنے کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا ’میں خیراتی اداروں کو چندہ دیتا ہوں لیکن میں کبھی کسی ایسے ادارے کو چندہ نہیں دوں گا جو شارکس کی مدد کرتا ہو۔‘

ڈینیئلز نے کہا کہ وہ شارکس کے بارے میں ’وہمی‘ اور ان سے ’خوفزدہ‘ تھے۔