آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آنگ سان سوچی میں ’اخلاقی قیادت‘ کا فقدان ہے: امریکی سفارتکار
سابق امریکی سفارتکار بل رچرڈسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے روہنگیا بحران پر مشاورت کے لیے تشکیل کردہ بین الاقوامی پینل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ پینل ایک ’وائٹ واش‘ یعنی پردہ ڈالنے کا کام کرنے والا تھا اور اس مسئلے پر آنگ سان سوچی میں ’اخلاقی قیادت‘ کا فقدان پایا جاتا ہے۔
میانمار کی حکومت نے اس پر کسی ردعمل اظہار نہیں کیا تاہم پینل کے ایک اور رکن کا کہنا تھا کہ رچرڈسن کا بیان غیرمنصفانہ ہے۔
گذشتہ سال میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش نقل مکانی کی تھی۔
میانمار کی شمالی ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاون کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کو اقوام متحدہ نے ’نسل کشی کی کتابی مثال‘ قرار دیا تھا تاہم میانمار ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کلنٹن انتظامیہ کے سابق مشیر بل رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ’میرے مستعفی ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ مشاورتی بورڈ ایک وائٹ واش ہے۔‘
انھوں نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ’حکومت کی مداح سرائی کرنے والے سکواڈ کا‘ حصہ نہیں بننا چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو آن سانگ سوچی کے ساتھ ملاقات میں جب انھوں نے آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے خلاف ورزی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے روئٹرز کے دو صحافیوں کا معاملہ اٹھایا تو ان کی بحث شروع ہوگئی۔
یہ صحافی اس وقت روہنگیا بحران پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوچی ’غضبناک‘ تھیں اور اس بات پر زور دے رہی تھیں کہ یہ مقدمہ ’مشاورتی بورڈ کے کاموں میں شامل نہیں ہے۔‘
بل رچرڈ سن آنگ سان سوچی کو 1980 کی دہائی سے جانتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کہنا تھا کہ ’انھیں اپنی ٹیم کی جانب سے اچھی ہدایات نہیں مل رہیں۔‘
’میں انھیں بے حد پسند کرتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔ لیکن انھوں نے رخائن کے معاملے پر اخلاقی قیادت کو مظاہرہ نہیں کیا، اور الزامات عائد کیے ،اور مجھے اس پر پشیمانی ہے۔‘
رخائن ریاست سے متعلق سوچی حکومت نے ایڈوائزری بورڈ فار دی کمیٹی فار امپلیمینٹیشن آف ریکمینڈیشنز گذشتہ سال قائم کی تھی۔
بل رچرڈسن کے مستعفی ہونے سے پہلے اس میں دس ارکان تھے جن میں سے پانچ غیرملکی تھے۔
ان میں سابق جنوبی افریقی وزیر دفاع روئلوف میئر بھی شامل ہیں جنھوں نے بدھ کو دیگر بورڈ ارکان کے ساتھ رخائن کا دورہ کیا تھا۔
انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ دورہ ’بہت تعمیری‘ رہا ہے اور کہا کہ ایسی کوئی بات کہ یہ بورڈ ’محض ایک حکومتی آواز ہے، بالکل غیرمنصفانہ، غلط ہے۔ ہم نے ابھی تک کوئی تجاویز پیش نہیں کی ہیں۔‘