آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’شمالی کوریا امریکہ کے لیے حقیقت میں ایک بڑا جوہری خطرہ بن گیا ہے‘
شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کے لیے حقیقت میں ایک بڑا جوہری خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جانگ اُن نے کہا کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے بین الاقوامی سیاست میں اُن کے اثرو رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
شمالی کوریا کے بارے میں مزید پڑھیے
شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں اُس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر رائے شماری ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد میں شمالی کوریا کی تمام تیار پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے اور بیرون ملک کام کرنے والے شمالی کوریا کی افرادی قوت کو ایک سال کے اندر اندر واپس بھیجوانے کی تجویز دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربات کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اب اس کے میزائل کی رینج میں ہے۔
شمالی کوریا نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس کا نیا میزائل امریکہ کی مغربی ساحلی علاقے تک مار کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اطلاعات تھیں کہ پینٹاگون مغربی ساحل پر ایسا اضافی دفاعی نظام نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو ’لاپرواہ اور خطرناک عمل' قرار دیا تھا۔
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے حوالے سے کہا کہ'جنگ کے بغیر مسئلے کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن یہ ایک دوڑ ہے کیونکہ وہ قریب سے قریب آ رہے ہیں اور زیادہ وقت باقی نہیں ہے‘۔
شمالی کوریا کی جانب سے متعدد جوہری تجربوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے لیے مالی وسائل کو کم کرنے کے اُس پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
حال ہی میں سلامتی کونسل نے شمالی کوریا سے خام تیل کی برآمد کو محدود کرنے کے لیے اُس پر پابندیاں لگائی ہیں۔