سعودی عرب: ’فلسطینی کی تصویر‘ استعمال کرنے پر تنقید

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیر کو 41 ممالک پر مبنی دہشت گردی کے خلاف اسلامک اتحاد کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ایک ویڈیو دکھائی گئی جس کے ایک منظر میں ’ایک فلسطینی اسرائیلی فوج کے خلاف لڑ رہا ہے‘۔

اس ویڈیو کو اس اجلاس میں دکھانے پر عرب ممالک میں کافی شور برپا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف کانفرنس میں اس ویڈیو کو دکھانے کے بارے میں سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کوششیں ہیں۔

مختلف ذارئع کے مطابق یہ تصویر 2001 میں دوسری انتفادہ کے دوران لی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا 'یہ تصویر اس ویڈیو میں سے ہے جو دہشت گردی کے خلاف 41 ممالک کے اتحاد کے پہلی سیشن میں دکھائی گئی۔ یہ تصویر 2001 کی ہے جس میں ایک فلسطینی مقبوضہ یروشلم کے جنوب میں اسرائیلی فوج کے خلاف لڑ رہا ہے۔ وہ لوگ جو قابضوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی جلدی میں ہیں ان کے لیے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ہمیشہ سے مزاحمت تھی نہ کہ دہشت گردی اور ہمیشہ مزاحمت ہی رہے گی۔'

ایک اور صارف نے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا 'یہ مزاحمت ہے اور اس کا درجہ اور عزت بلند ترین ہے جو تم لوگوں میں نہیں۔ دہشت گردی وہ ہے جو تم کئی دہائیوں سے اپنے مظلوم لوگوں کے خلاف کر رہے ہو۔'

ایک اور صارف نے لکھا 'لوگ نہیں جاننا چاہتے کہ دہشت گردی قرار دینے کا تمہارا پیمانہ کیا ہے۔ جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے گا وہ دہشت گرد ہے۔ فلسطینیوں کی مزاحمت کا درجہ آپ سے زیادہ ہے۔'

ایک صارف نے لکھا ہے 'عرب ممالک کے سربراہان کے کوئی اقدار نہیں ہیں، وہ ان لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں جو عرب اور اسلامی ممالک کے سر فخر سے بلند کرتے ہیں‘۔

اگرچہ یہ بات واضح نہیں کہ اس تصویر کو دانستہ طور پر استعمال کیا گیا یا نہیں لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں کو کوئی شک نہیں ہے کہ اس تصویر کو دانستہ طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک صارف نے لکھا 'کیا خیال ہے کہ یہ غلطی تھی یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا؟ نہیں، یہ دانستہ طور پر کیا گیا تاکہ فلسطینی مزاحمت کو نقصان پہنچایا جائے اور صیہونیوں کے ساتھ تعلقات بحال کیے جائیں۔'

اس منظر کا ویڈیو میں شامل ہونے کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشت گردی کے بارے میں متفق ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

'عربوں نے سچ بول دیا چاہے غلطی تھی یا نہیں۔ دہشت گردی دہشت گردی ہے ۔۔۔ حماس اور اس کے حمایتیوں کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شرمندہ ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ آج اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ کیا اس کو ختم کر دیا جائے گا؟'

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خلاف سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان غیر اعلانیہ اتحاد فلسطینیوں کی تنقید کے نشانے پر ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں ’ایران سے مشترکہ دشمنی کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل میں تعاون پیدا ہو سکتا ہے‘۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل گیڈی ائزنکوٹ نے برطانیہ سے کام کرنے والے سعودی اخبار ایلاف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ انٹیلیجنس کا تبادلہ کرنے پر تیار ہے۔ انھوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ جہاں تک ایران کے حوالے سے خدشات ہیں تو دونوں ملکوں کا مشترکہ مفاد اس کو روکنے سے وابستہ ہے۔