آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جاپان: ’شمالی کوریا کے آٹھ ماہی گیروں‘ کو حراست میں لے لیا گیا
جاپان میں حکام کے مطابق مبینہ طور پر شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے آٹھ ماہی گیروں کو جاپان کے ساحل پہنچنے پر حراست میں لے گیا ہے۔
جاپان کے ساحل پر پہنچنے والی اس کشتی پر آٹھ افراد سوار تھے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر ہیں اور ان کی کشتی طوفان کی وجہ سے جاپان آ پہنچی ہے۔
جاپان کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان آٹھ مردوں کے بارے میں جمعرات کی رات گئے معلوم ہوا جس کے بعد انھیں حراست میں لے گیا۔
ان مردوں نے حکام کو بتایا کہ ان کی کشتی میں خرابی پیدا ہو گئی تھی اور وہ شمالی کوریا سے بغاوت کر کے نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ شمالی کوریا کے ماہی گیروں کی کشتیاں باقاعدگی سے جاپان کے ساحلی علاقوں میں آ جاتی ہیں اور اس کے کوسٹ گارڈوں کو کبھی کبھی ان ماہی گیروں کو بچانا پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان کے براڈ کاسٹر این ایج کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد بغیر کسی مدد کے چلنے کے قابل تھے اور ان سے مزید تفتیش کرنے کے لیے ایک کوریائی مترجم کو بلوایا گیا۔
جاپان کے قومی پبلک سیفٹی کمیش کے چیئرمین نے صحافیوں کو بتایا کہ ان افراد کا کہنا تھا کہ وہ جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں تھے جب ان کی کشتی میں خرابی پیدا ہو گئی۔
جاپانی میڈیا کے مطابق یہ افراد بظاہر سکویڈ نامی مچھلی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جاپان کے میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی کشتی پر لائٹ بلب لگا ہوا تھا جسے ماہی گیر اکثر رات کو مچھلی کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ افراد جاپان رکنا چاہتے ہیں یا شمالی کوریا واپس جانا چاہتے ہیں۔