تھائی سپاہی کے لاپتہ اعضا کا معمہ حل نہ ہو سکا

تھائی لینڈ

،تصویر کا ذریعہSUPICHA TANYAKARN

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے کیڈٹ نے اپنے خاندان کو سکول میں جسمانی سزا میں اضافے کے بارے میں بتایا تھا

تھائی لینڈ میں پراسرار حالات میں انتقال کرنے والے آرمی کیڈٹ پھاخاپونگ تنیاکن کے جسم کے بعض اعضا غائب ہونے کی وجہ سے ورثا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ان کے ذہن میں کئی سوالات موجود ہیں۔

پھاخاپونگ تنیاکن آرمڈ اکیڈمیز پریپریٹری سکول میں پہلے سال کے طالب علم تھے۔ 17 اکتوبر کو ان کے ورثا کو بتایا گیا کہ اچانک دل بند ہو جانے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی ہے۔

ورثا نے سرکاری موقف پر یقین نہیں کیا کیونکہ وہ پہلے بھی فوجی سکول میں سفاکانہ رویے کا ذکر کر چکے تھے۔

جب جنازے کے لیے ان کی نعش کو ورثا کے حوالے کیا گیا تو انھوں نے خفیہ طور پر ایک نجی ہسپتال میں اس کا معائنہ کروایا۔

اس معائنے میں ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ پھاخاپونگ تنیاکن کے جسم پر زخموں کے نشان ہیں، پسلیاں اور ہنسلی کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ جسم کے کئی اہم اعضا دماغ، دل، پیٹ اور مثانہ غائب ہیں۔

بی بی سی تھائی سے بات کرتے ہوئِے نوجوان کیڈٹ کے والد نے کہا کہ ’یہ ناقابل بیان ہے۔ ہمارے لیے یہ واقعہ ایک کشتی کے الٹ جانے کی طرح ہے۔ وہ ڈوب گیا اور ہمیں لہروں کےرحم و کرم پر چھوڑ گیا۔‘

ہلاک ہونے والے کیڈٹ نے چونکہ اپنے خاندان کو سکول میں جسمانی سزا میں اضافے کےبارے میں بتایا تھا اسی وجہ سے ورثا کے شکوک و شبہات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

تھائی اخبار بنکاک پوسٹ نے کیڈٹ کی ماں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایک بار انھیں سزا کے طور پر سر کے بل کھڑا ہونے کا کہا گیا جس کی وجہ سے انھیں جھٹکا لگا اور انھیں واپس ہوش میں لانے کے لیے سی پی آر کی ضرورت پڑی۔‘

انھوں نے اپنے والدین کو یہ بھی بتایا تھا کہ اکیڈمی میں سینیئر طالب علم بےدردی سے نظم و ضبط کی پابندی کرواتے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تھائی فوج میں جسمانی سزا اور تشدد ایک عام مسئلہ ہے۔

تھائی لینڈ

،تصویر کا ذریعہSUPICHA TANYAKARN

،تصویر کا کیپشنپھاخاپونگ کے والد کا کہنا ہے کہ فوج تفتیش کر کے واضح کرے کہ یہ موت کن حالات میں ہوئی

فوج کا کیا کہنا ہے؟

جواب میں فوج نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنا موقف ایک بار پھر دہرایا کہ یہ موت دل بند ہونے کی وجہ سے ہوئی اور پہلے پوسٹ مارٹم کے لیے فوج نے ہی اعضا نکالے تھے۔

مقامی اخبار نیشن نے فوج کے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ نعش پر زخموں کے کوئی نشان نہیں تھے اس لیے تفصیلی معائنے کے لیے اعضا نکالے گئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چونکہ اب معائنہ مکمل ہو چکا ہے تو انھیں ورثا کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

کیڈٹوں کو دی جانے والی ظالمانہ سزا کے الزامات پر فوج کا کہنا تھا کہ انضباطی کارروائی جاری تھی لیکن اس کا پھاخاپونگ تنیاکن کی موت سے کوئی تعلق نہیں۔

پھاخاپونگ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ فی الوقت کوئی الزامات نہیں عائد کر رہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ فوج تفتیش کر کے واضح کرے کہ یہ موت کن حالات میں ہوئی۔