آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خوراک کی کثرت مگر یمن قحط کے دہانے پر کیوں؟
- مصنف, کلائیو مائری
- عہدہ, بی بی سی نیوز، تعز، یمن
آپ ایک ایسے ملک میں قحط کی کیسے وضاحت کریں گے جہاں خوراک موجود ہو؟
دو سال قبل میں ایتھوپیا میں تھا، جہاں قحط کے خطرے کے بارے میں رپورٹنگ کر رہا تھا، اسی جگہ پر جہاں بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل بیورک نے سنہ 1985 کے قحط کی رپورٹنگ کی تھی۔
جہاں زمین خشک ہوتی ہے، وہاں خراب حالات، مثلاً بارش نہ ہونے کی وجہ سے، قحط پڑنا اور پھر لوگوں کا بھوک سے مرنا سمجھ میں آتا ہے ۔
میں سنہ 2011 میں کینیا میں تھا جہاں خشک سالی سے پیدا ہونے والے قحط کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ دونوں صورتحال میں جنگ کی وجہ سے تباہی تھی، 1980 کی دہائی میں ایتھوپیا میں علیحدگی پسند جنگجووں کے ساتھ اور حال ہی میں کینیا میں شدت پسند گروہ الشباب کے ساتھ تنازع، لیکن بنیادی بات یہی تھی خوراک نہیں دستیاب تھی۔
یہاں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ سنہ 2017 کا یمن۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈھائی سال سے تعز کا شہر حوثی باغیوں کے زیرانتظام ہے۔ وہاں ایک بازار کا چکر لگانے سے خوراک کی کثرت ظاہر ہوتی ہے۔ بڑے بڑے انار اور کینو، تازہ لہسن، کیلے، ترئی اور طنچوی نارنگیاں۔
سپرمارکیٹس بھی تازہ گوشت، انڈوں اور دیگر سامان سے بھری پڑی ہیں۔ تو پھر اس ملک میں قحط کیسے آسکتا ہے؟ یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔
بڑھتی ہوئی قیمتیں
مجھے تعز کے بازاروں میں ایک ایسے شخص نے گھمایا جس سے ایک روز قبل ملاقات ہوئی تھی۔ 55 سالہ سمیع عبدالہادی نے ایک ہسپتال کے باہر ہمیں عکس بندی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
اس سے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ وہ اس بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ یمن کے تنازع کے بارے میں اصل جرم کو ہم ضرور رپورٹ کریں۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگ مر رہے ہیں اور بازاروں میں خوراک موجود ہے، چنانچہ ہم نے اگلے دن اس سے ملاقات طے کی۔
سمیع نے کینوؤں کے ڈھیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا: 'ان پھلوں کو دیکھیں۔ جنگ سے پہلے یہ 300 یمنی ریال ( 1.2 ڈالر) کے تھے اور اب یہ 600 کے ہیں۔ کسی میں یہ خریدنے کی سکت نہیں۔'
اس کے سامنے پڑی ہوئی خوراک کو وہ خود بھی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ وہ ایک انشورنس سیلز مین رہ چکے ہیں اور سنہ 2009 سے بے روز گار ہیں اور ان کا گزارہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مہیا کی گئی خوراک پر ہوتا ہے۔
جنگ زدہ یمن میں کسی بھی قسم کی نوکری ایک انتہائی مشکل کام ہے۔
ناکہ بندی
سمیع کے ساتھ بات چیت کے دوران ہمارے اردگرد کچھ اور لوگ بھی جمع ہوگئے۔ 80 سال کی عمر کے قریب ایک شخص کا کہنا تھا کہ اس کو ذیابیطس کے مرض کی دوا نہیں مل رہی۔ ایک اور شخص نے پیٹرول اور تیل کی کمی کا شکوہ کیا جبکہ ایک شخص کا کہنا تھا جنگ کی وجہ سے اسے کئی ہفتوں سے تنخواہ نہیں ملی۔
یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ اسے سیاسی قحط کا سامنا ہے۔
جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک بہرحال درآمد کی جاتی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار وہاں کی بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی پابندوں سے آزاد فضا پر ہوتا ہے۔
حالیہ تنازع کا مطلب ہے کہ یہ تینوں راستے بند ہیں۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحاد کی سربراہی کرنے والا سعودی عرب کسی بھی وقت بندرگاہیں بند کر سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ خوراک اور امداد کی فراہمی میں مشکلات، وہ خوراک اور امداد جس پر تقریباً دو کروڑ دس لاکھ افراد کا انحصار ہے۔
سعودی عرب نے ایسا ہی چار نومبر کو کیا جب حوثیوں نے سرحد پار سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملہ کیا تھا۔
اب امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ تمام بندرگاہوں کو جب تک جلد ہی دوبارہ نہیں کھولا جاتا، گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا سامان اگلے چند ماہ میں ختم ہوسکتا ہے۔
مصنوعی بحران
یمن میں سڑکوں کا برا حال ہے۔ کچھ شاہراہیں اور پل جنگ کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں اور خوراک کے ٹرک باغیوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جو صرف اپنے ہمدرد علاقوں تک خوراک پہنچاتے ہیں۔
ٹرک ڈرائیوروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور انھیں القاعدہ کے زیراثر علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس ساری صورتحال کو یمن کے 'قحط' کو انسانوں کی بنائی ہوئی اور سیاسی بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کہا جا سکتا ہے۔
لاکھوں یمنیوں کی طرح سمیع الہادی بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ اس مسئلے میں کیسے پھنس گئے۔ وہ قاہرہ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کے پاس سیاسیات کی ڈگری ہے اور وہ اچھی انگریزی بول سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی دی گئی خوراک پر گزارہ کرنے کی انھیں کبھی توقع نہیں تھی۔