سعودی اتحاد کی ناکہ بندی،’یمن کو دنیا کے سب سے بڑے قحط کا سامنا‘

اقوام متحدہ کے ایک سینئیر اہلکار نے سعودی اتحاد سے یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے یمن کو بدترین قحط کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق انڈر سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اتحاد پر زور دیا کہ وہ یمن کی ناکہ بندی ختم کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کے بارے میں بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک لوکاک کا کہنا تھا کہ انھوں نے کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ 'جب تک یمن کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہاں قحط ختم نہیں ہو گا۔'

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید کہا کہ'یہ دنیا میں گذشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا قحط ہو گا جو دسیویں لاکھوں افراد کو متاثر کرے گا۔'

واضح رہے کہ سعودی فوجی اتحاد نے گذشتہ پیر کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض پر داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنانے کے بعد یمن کے تمام فضائی، زمینی اور سمندری راستوں کو بند کر دیا تھا۔

سعودی فوجی اتحاد نے میزائل داغے جانے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے 'خطرناک پیش رفت' قرار دیا تھا۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کی ناکہ بندی دراصل ایران کی جانب سے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکنے کی کوشش ہے۔ ایران نے باغیوں کو ملسح کرنے کی تردید کی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے یمن کی صورتِ حال کو 'تباہ کن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یمن کے دسویں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے جو امداد پہنچانے والے اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کی روکی جانے والی امداد میں ملیریا سے بچاؤ کی گولیاں بھی شامل تھیں جس سے نو لاکھ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ70 لاکھ یمنی شہریوں کو قحط کا سامنا ہے۔