آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانس میں بچے کا نام 'جہاد' رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟
فرانس میں ججز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا کوئی اپنے بچے کا نام 'جہاد' رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق قانونی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی فرانس میں ججز اس معاملے کے متعلق فیصلہ دینے والے ہیں۔
اگست کے مہینے میں ایک بچے کو 'جہاد' نام سے تولوز شہر کے میئر کے دفتر میں رجسٹر کروایا گیا تھا جس کے بعد دفتر نے اس معاملے کو استغاثہ کے پاس بھیج دیا۔ ممکنہ طور پر والدین کو بچے کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
قانونی ذرائع نے بتایا: 'اس معاملے میں کارروائی جاری ہے۔'
خیال رہے کہ دنیا میں 'جہاد' کو انتہا پسندوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جنھوں نے حالیہ برسوں میں فرانس کو بار بار نشانہ بنایا ہے اور ایک اندازے کے مطابق حالیہ برسوں میں 200 سے زیادہ افراد ان کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرانس میں اب کوئی کنبہ اپنے بچے کا پہلا نام رکھنے کے لیے آزاد ہے لیکن سنہ 1993 سے قبل انھیں ناموں کی منظور شدہ ایک فہرست سے ہی نام منتخب کرنا ہوتا تھا۔ بہر حال اب بھی مقامی حکام اگر یہ محسوس کریں کہ کوئی نام بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ اس معاملے کو استغاثہ کے پاس بھیج سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیس کے ریوائرا شہر کے میئر کے دفتر نے گذشتہ سال نومبر میں ایک بچے کا نام 'محمد میراہ' رکھنے پر معاملے کو استغاثہ کے سپرد کردیا تھا کیونکہ محمد میراہ نام کے بندوق بردار شخص نے سنہ 2012 میں سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں تین یہودی سکول کے طلبہ بھی تھے۔
اس کے بعد والدین نے اس بچے کا دوسرا نام رکھنے کا فیصلہ کیا۔
سنہ 2013 میں ایک فرانسیسی ماں اس وقت شہ سرخیوں میں آئی تھی جب انھوں نے جہاد نام کے اپنے بچے کو ایک ایسی ٹی شرٹ میں سکول بھیجا جس میں لکھا تھا: 'میں ایک بم ہوں' اور 'جہاد 11 ستمبر کو پیدا ہوا‘۔