آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کا شمالی کوریا سے ’سختی کے ساتھ نمٹنے‘ کا عہد
جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے اتوار کو منعقدہ انتخابات کے ایگزٹ پول نتائج میں جیت کے واضح اشارے ملنے کے بعد شمالی کوریا سے 'سختی کے ساتھ نمٹنے' کا وعدہ کیا ہے۔
شنزو آبے نے کہا ہے کہ انھوں نے ملک کو درپیش ’متعدد بحرانوں‘ کے پیش نظر ایک سال قبل ہی انتخابات اس لیے کروائے کیونکہ وہ اپنے اختیارات میں اضافہ چاہتے تھے۔
ان بحران میں سے ایک پیانگ یانگ کی جانب سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
ابتدائی ایگزٹ پول سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور انھیں دو تہائی ’سے زیادہ اکثریت‘ حاصل ہو رہی ہے۔
یہ ان کے ارادوں کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے صلح جو آئین میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ یہ آئین امریکی قابضوں نے سنہ 1947 میں بنایا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 9 میں جنگ سے مکمل کنارہ کشی کی بات کہی گئی ہے۔
جاپان نے ابھی تک آئین کی اس دفعہ کا پاس رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی فوج صرف دفاعی مقصد کے لیے ہے لیکن وزیراعظم شنزو آبے نے بہت پہلے واضح کردیا تھا کہ وہ اس دفعہ کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ وہ اس کام کے لیے ’زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
ایگزٹ پول کے بعد سرکاری میڈیا این ایچ کے سے بات کرتے ہوئے شنزو آبے نے کہا: ’جیسا کہ ہم نے انتخاب کے دوران وعدہ کیا ہے ہمارا فوری کام شمالی کوریا سے سختی کے ساتھ نمٹنا ہے۔
’اس کے لیے مضبوط سفارتکاری کی ضرورت ہوگی۔‘
خیال رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران شمالی کوریا نے جاپان کے شمال ترین جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے دو میزائل داغے تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق شنزو آبے کی سربراہی والے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے اتحاد کو 312 سیٹیں مل رہی ہیں۔
انتخاب میں کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ سال ستمبر میں جب پارٹی کا انتخاب ہوگا تو شنزو آبے کو ایل ڈی پی کا تیسری بار مزید تین سال کے لیے رہنما بنایا جانا یقینی ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ وہ جاپان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دنوں تک وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والے شخص بن جائيں گے۔ وہ پہلی بار سنہ 2012 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔