بین الاقوامی طاقتیں ایران کے ساتھ معاہدے کی حامی

امریکی اتحادیوں سمیت عالمی طاقتوں نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کریں گے جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسے ختم کر ڈالیں گے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ معاہدے پر دستخط کرنا بند کر دیں گے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ 'ہمارے مشترکہ قومی اور سلامتی مفاد میں ہے۔' یورپی یونین نے کہا ہے کہ کوئی ملکِ واحد ایک قابلِ عمل معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ 'پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہے۔'

انھوں نے پوچھا: 'کیا کوئی صدر کثیر قومی بین الاقوامی معاہدے کو ازخود ختم کر سکتا ہے؟

'شاید انھیں معلوم نہیں ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ معادہ نہیں ہے۔'

ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت کو ’جنونی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنے خطاب میں ایران پر دہشت گردی کی معاونت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

البتہ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے جوہری پروگرام کو بند کرنے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انتہائی نرم ہے اور ’ایران کئی مرتبہ اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔‘

امریکی صدر کے مطابق ’ایران موت، تباہی اور افراتفری پھیلا رہا ہے۔‘

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ’ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے تمام راستے‘ بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہم اس سفر کو جاری نہیں رکھ سکتے جس کا ممکنہ اختتام تشدد اور دہشت ہو۔ ایران کی جانب سے جوہری معاہدہ توڑنے کے حقیقی خطرات موجود ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا ’ہم اس معاہدے کو کانگریس میں بھیجیں گے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے، اگر اس دوران کانگریس اور ہمارے اتحادی کسی حل تک پہنچے تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔‘

امریکی کانگریس کے مطابق امریکی صدر کو ہر تین ماہ کے بعد ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے میں اس بات کی تصدیق کرنا پڑتی ہے کہ ایران شرائط پر عمل کر رہا ہے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ دو مرتبہ اس کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن تیسری بار انھوں نے ایسے کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کی تصدیق کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔

معاہدے کی توثیق نہ ہونے کے بعد کانگریس کو 60 دنوں میں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ معاہدہ ختم کریں یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ’میں بطور صدر کسی بھی وقت ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں اپنی نمائندگی ختم کر سکتا ہوں۔‘

امریکی صدر نے کہا ’ایران معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کر رہا جبکہ پابندیاں اٹھائے جانے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ان کی نئی حکمت عملی اس سب کو ٹھیک کر دے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس معاہدے کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ان کی تقریر کے چند ہی منٹوں بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ انتہائی طاقتور ہے اور اس کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔‘

فیڈریکا موگیرینی نے کہا ’اس معاہدے کو ختم کرنے کی طاقت دنیا کے کسی صدر کے پاس نہیں ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بنایا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے ساتھ ساتھ جرمنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو نہ چھورنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جوہری معاہدے سے ہٹ کر ایران کی دیگر سرگرمیوں خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب پر بھی بات کی۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ پاسداران انقلاب کو ’ایران کے قائد کی بدعنوان لوگوں پر مشتمل دہشت پھیلانے والی فورس‘ قرار دے چکے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی معاہدے پر کی جانے والی سب سے اہم تنقید یہ تھی کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا احاطہ نہیں کیا گیا۔