روہنگیا بحران: بنگلہ دیش جانے والے پناہ گزینوں کی کشتی الٹنے سے متعدد بچے ہلاک

بنگلہ دیش اور میانمار کے سرحدی علاقے میں واقع دریائے ناف میں کشتی الٹنے سے روہنگیا مسلمانوں کے کم از کم 10 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے حکام کے مطابق کل 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد لاپتہ ہیں۔

اتور کو پیش آنے والے اس حادثے میں جو کشتی الٹی اس میں سو سے زائد افراد سوار تھے۔ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

میانمار میں جاری تشدد اور فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی کرنے والے درجنوں روہنگیا پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔

اب تک کشتی میں سوار لوگوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں لیکن بنگہ دیشی سرحدی محافظوں کے مطابق اندازاً 40 سے 100 افراد تھے۔

حکام کے مطابق اب تک ایک مرد ایک عورت اور 10 بچوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

اس سے پہلے ستمبر کے مہینے میں اسی طرح کے ایک اور حادثے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کئی افراد نے جہاں زمینی راستوں سے نقل مکانی کی وہیں کئی لوگ ماہی گیری کے لیے استمعال ہونے والی چھوٹی کشیتوں میں ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیو دی چلڈرن نامی امدادی ادارے کے مطابق ’کئی لوگ پہلے سے بھری کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش میں ہیں اور ممکن ہے کہ انہیں تیرنا ہی نہ آتا ہو۔ یہ لوگ بنگلہ دیش آنے کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

اگست میں میانمار کے علاقے رخائن میں روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی پوسٹ پر حملے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

میانمار میں روہنگیا کو بڑے پیمانے پر ناپسند کیا جاتا ہے اور انہیں شہریت بھی حاصل نہیں۔ تشدد شروع ہونے کے بعد سے پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔

نقل مکانی کرنے والوں کا الزام ہے کہ فوج اور بودھ افراد ان کے گاؤں جلا کر اور ان کے لوگوں کو قتل کرکے وہاں سے بھگا رہے ہیں۔

میانمار کی فوج پر نسل کشی اور قتلِ عام کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے بقول وہ صرف روہنگیا شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔