امریکہ: مانع حمل ادویات فراہم کرنا اب لازمی نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک قانون وضع کیا ہے جس کے تحت ملازمت دینے والوں کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اگر ان کے مذہبی یا اخلاقی عقائد کی خلاف ورزی ہو تو ان پر لازم نہیں کہ وہ اپنے ملازموں کو اسقاطِ حمل ادویات فراہم کرنے والی بیمہ پالیسی فراہم کریں۔
امریکہ میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
’پلینڈ پیرنٹ ہڈ فیڈریشن‘ نامی تنظیم نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے صدر ٹرمپ نے تقریباً سوا چھ کروڑ خواتین کے برتھ کنٹرول کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی نے کہا کہ خواتین کے متعلق انتظامیہ کا اقدام نئی پستیوں تک پہنچ گیا ہے۔
امریکی سول لیبرٹیز یونین اور میساچوسیٹس ریاست نے اس فیصلے کو عدالتی طور پر چیلنج کیا ہے جبکہ کانگریس کے رپبلکن رہنماؤں نے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔
ایوان کے سپیکر پال رائن نے کہا 'یہ فیصلہ مذہبی آزادی کے ضمن میں ایک سنگ میل ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کے مطابق اس تبدیلی کا اثر تقریباً چھ کروڑ امریکی خواتین پر پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں اس قانون کے تحت کمپنیوں کو خواتین کو مفت مانع حمل ادویات فراہم کرنا لازمی تھا۔
لیکن اب امریکی محکمہ صحت نے کہا کہ کمپنیوں کے مالکان اور انشورنس کمپنیاں اپنی خواتین ملازموں کو مفت مانع حمل ادویات کی فراہمی کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے باوجود زیادہ تر خواتین کو مانع حمل تک رسائی حاصل ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس قانون کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیٹر ميگی حسن نے ٹویٹ کیا: ’لاکھوں خواتین نے جنوری میں سڑکوں پر اپنی آواز بلند کی تھی۔ وہ ایسی خاتون مخالف پالیسیوں کی حمایت نہیں کریں گی۔‘
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈرس نے کہا: 'صدر ٹرمپ نے پہلی ترمیم اور مذہبی حقوق کی حمایت کی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر اس میں مسئلہ کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو صحیح قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ایسے انسان ہیں جو آئین پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر لوگوں کو آئین کو کوئی بات پسند نہیں تو انھیں کانگریس سے اسے تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔'








