آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’مذاکرات کرنے کی کوشش پر وقت ضائع نہیں کریں‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وزیرِ خارجہ کو کہا ہے کہ وہ سمالی کوریا کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کرنے کی کوشش کرکے وقت ضائع کر رہے ہیں۔
حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے امریکہ اور شمالی کوریا براہِ راست رابطے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ’اپنی ہمت ضائع نہ کرو ریکس، ہم کر لیں گے جو ہمیں کرنا ہے!‘
سنیچر کے روز ریکس ٹلرسن نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا کی مذاکرات میں بہت تھوڑی دلچسپی ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے گذشتہ چند ماہ میں انتہائی شدید تلخ بیان بازی کی گئی ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام روک دے۔ شمالی کوریا نے متعدد بار کامیاب میزائل تجربے کیے ہیں اورانھوں نے ایک چھوٹے حجم کے ہائی ڈروجن بم (جسے میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے) کے ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
تاہم مذاکرات کی کوششیں بھی اس معاملے میں صدر ٹرمپ کے اپنے رویے سے متضاد لگتی ہیں۔
اتوار کے روز انھوں ٹوئٹر پر ایک پیغام کہا کہ ’میں نے ہمارے بہترین وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن سے کہا ہے کہ وہ لیٹل راکٹ مین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کر کے وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ان کا اس سے کیا مراد ہے کہ ’ہمیں جو کرنا ہوگا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ نے اپنی ہی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار سے متضاد پالیسی کی بات کی ہے۔
اگست میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج شمالی کوریا پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ ان کے اپنے وزیرِدفاع نے اس سے چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔
ریکس ٹلرسن کا بیان ان کے چین کے دورے کے دوران سامنے آیا تھا۔ واضح رہے کہ چین شمالی کوریا کا روایتی طور پر مرکزی حمایتی ملک ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر ان کے جوہری پروگرام کی وجہ سے لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کے باوجود اس کی خواہش ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا مذاکرات کے لیے راضی ہو جائیں۔
دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ چین کے پاس شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر قابو پانے کی کنجی ہے۔