آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میرے خیال میں امریکہ معاہدہ توڑ دے گا: ایرانی وزیرِ خارجہ
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات کی توقع ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ عالمی برادری کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹ جائے گا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ یورپ اس معاہدے کو قائم رکھے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کے حوالے سے ماضی میں انتہائی منفی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ آئندہ ماہ انھوں نے اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ کیا ایران اس معاہدے کی شرائط پر پورا اترا ہے یا نہیں۔
اگر انھوں نے کہا کہ ایران نے شرائط کی پاسداری نہیں کی تو امریکی کانگریس ایران پر پابندیاں لگانا شروع کر دے گی۔
اسی ماہ اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ شرمناک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس، جرمنی، برطانیہ، روس، اور جین اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں اور حال ہی میں ان ممالک نے اس کا دفاع بھی کیا ہے۔
دو برطانوی اخبارات کو انٹرویو دیتے ہوئے جواد زریف کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہو گیا تو ایران پر عائد یورینیئم کی افزودگی کے حوالے سے پابندیاں ختم ہو جائیں گی تاہم ایران پھر بھی صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ یا آپ اس معاہدے کے ساتھ رہ سکتے ہیں یا اسے ختم کر سکتے ہیں، آپ نصف حاملہ نہیں ہو سکتے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ (ٹرمپ) اس حوالے سے سرٹیفیکیشن نہیں کریں گےاور کانگریس کو فیصلہ کرنے دیں گے۔‘
’اس معاہدے میں ہمیں اپنی ٹیکلنالوجی میں بہتری اور تحقیق کی اجازت تھی اور اگر اب یہ ختم ہو جاتی ہے تو ہم نے اپنی ٹیکنالوجی بہتر کر لی ہے۔‘
انھوں نے صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ ’میرے خیال میں انھوں نے غیر متوقع ہونے کو پالیسی بنا لیا ہے اور اب وہ ناقابلِ اعتماد بھی ہوتے جا رہے ہیں۔‘